نیشنل ڈیسک: اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسدالدین اویسی نے کہا ہے کہ ایک دن حجاب پہننے والی خاتون ہندوستان کی وزیر اعظم بنے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا آئین تمام برادریوں کے لوگوں کو یکساں درجہ دیتا ہے، جبکہ پاکستان کا آئین اعلی آئینی عہدوں کے لیے صرف ایک ہی برادری تک محدود ہے۔ حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی نے اویسی کے اس بیان پر سخت ردعمل دیا ہے۔ بی جے پی نے کہا کہ اپنے غیر ذمہ دارانہ بیان کے ذریعے حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ آدھا سچ پیش کر رہے ہیں، کیونکہ مسلم خواتین حجاب نہیں پہننا چاہتیں۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اویسی نے 15 جنوری کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات سے قبل مہاراشٹر کے سولاپور میں جمعہ کے روز ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کا آئین سب کو برابری کا حق دیتا ہے، پاکستان کے آئین کی طرح نہیں جو اعلی آئینی عہدوں کے لیے صرف ایک ہی برادری تک محدود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ممکن ہے وہ اسے دیکھنے کے لیے زندہ نہ رہیں، لیکن مستقبل میں ایسا وقت ضرور آئے گا جب حجاب پہننے والی خاتون ہندوستان کے وزیر اعظم کے عہدے کا حلف لے گی۔
بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ انیل بوندے نے اویسی کے بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ آدھا سچ پیش کر رہے ہیں۔ بوندے نے دعوی کیا کہ مسلم خواتین حجاب نہیں پہننا چاہتیں۔ بوندے نے ایران میں خواتین کی جانب سے حجاب کے خلاف کیے جا رہے احتجاجی مظاہروں کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مسلم خواتین حجاب نہیں چاہتیں، کیونکہ کوئی بھی غلامی کو پسند نہیں کرتا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ ہندوستان میں آبادیاتی عدم توازن ابھر رہا ہے، اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے ہندو اتحاد کی اپیل کی۔