واشنگٹن: امریکہ کے وزیر تجارت ہوورڈ لٹ نک نے ایک حیران کن انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدہ صرف اس لیے پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکا کیونکہ وزیر اعظم نریندر مودی نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو فون نہیں کیا۔
روسی تیل اور ٹیرف کا تنازعہ
لٹ نک کایہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ پہلے ہی بھارت کی جانب سے روسی تیل کی خریداری پر اپنی ناراضی ظاہر کر چکے تھے۔ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ واشنگٹن بھارت سے آنے والی اشیاء پر بہت تیزی سے ٹیرف یعنی ٹیکس بڑھا سکتا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان پچاس فیصد ٹیرف کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے بات چیت کے چھ دور ہو چکے تھے۔
بھارت کی عدم سہولت رکاوٹ بنی۔
ایک پوڈکاسٹ کے دوران لٹ نک نے بتایا کہ انہوں نے خود وزیر اعظم مودی سے معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے صدر ٹرمپ سے بات کرنے کی اپیل کی تھی۔ تاہم ان کے مطابق بھارت ایسا کرنے میں جھجک محسوس کر رہا تھا جس کی وجہ سے مودی نے فون نہیں کیا۔
دوسرے ممالک بازی لے گئے
امریکی وزیر تجارت نے بتایا کہ امریکہ نے انڈونیشیا، فلپائنز اور ویتنام کے ساتھ تجارتی معاہدے کر لیے ہیں۔ انہیں امید تھی کہ بھارت کے ساتھ یہ معاہدہ سب سے پہلے ہوگا، لیکن تاخیر کے باعث دوسرے ممالک کے ساتھ زیادہ شرحوں پر سودے طے ہو گئے۔ جب بھارت نے بعد میں واپسی کی تو صورتحال بدل چکی تھی۔
تعلقات میں تلخی۔
ذرائع کے مطابق اس بات چیت کی ناکامی کے بعد صدر ٹرمپ نے بھارت کے خلاف سخت رویہ اختیار کر لیا ہے۔ کشیدگی اس حد تک بڑھ گئی کہ ٹرمپ نے بھارتی معیشت کو مردہ معیشت یعنی ڈیڈ اکانومی تک کہہ دیا۔