سری نگر: وادی کشمیر میں خشک موسم کے بیچ سردی کا قہر جاری ہے جس نے لوگوں کو گوناگوں مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔وادی میں شبانہ درجہ حرارت نقطہ انجماد سے کافی نیچے ریکارڈ ہونے اور یخ بستہ ہوائیں چلنےسے جہاں شہرہ آفاق جھیل ڈل کے کچھ حصے منجمد ہوئے ہیں وہیں بالائی علاقوں میں بیشتر مقامات پر آبی ذخائر یہاں تک کہ گھروں میں نصب پانی کے نل بھی جم گئے ہیں جس کے باعث لوگوں کو صبح کے وقت وضو کرنے کے لئے پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑا۔
کشمیر ویدر کے مطابق وادی میں جنوبی کشمیر کا ضلع شوپیاں سرد ترین علاقہ رہا ہے جہاں کم سے کم درجہ حرارت منفی 8.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے جبکہ ضلع پلوامہ میں شبانہ درجہ حرارت منفی8.0 ڈگری سینٹی گریڈ اور سیاحتی مقام پہلگام میں شبانہ درجہ حرارت منفی7.8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے اور ضلع اننت ناگ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی7.0 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے۔
گرمائی دارلحکومت سری نگر میں کم سے کم درجہ حرارت منفی5.7 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے جبکہ وادی کے شہرہ آفاق سیاحتی مقام گلمرگ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی6.8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے۔شمالی کشمیر کے بارہمولہ اور بانڈی پورہ اضلاع میں شبانہ درجہ حرارت بالترتیب منفی5.8 ڈگری سینٹی گریڈ اور منفی 5.3 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے جبکہ وسطی کشمیر کے بڈگام اور گاندربل اضلاع میں کم سے کم درجہ حرارت بالترتیب منفی6.1 ڈگری سینٹی گریڈ اور منفی5.1 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے۔
لداخ یونین ٹریٹری میں قصبہ دراس سرد ترین علاقہ رہا ہے جہاں شبانہ درجہ حرارت منفی24.6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے جبکہ لیہہ اور کرگل اضلاع میں شبانہ درجہ حرارت بالترتیب منفی14.4 ڈگری سینٹی گریڈ اور منفی13.7 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے۔
محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق وادی میں 21 جنوری تک موسم مجموعی طور پر خشک رہنے کا امکان ہے۔قابل ذکر ہے کہ وادی میں سخت سردیوں کے لئے مشہور چالیس روزی چلہ کلاں بر سر اقتدار ہے جس کا دور 21 دسمبر سے شروع ہوکر 31 جنوری کو اختتام پذیر ہوجاتا ہے اس کے بعد بیس دنوں پر محیط چلہ خورد شروع ہوجاتا ہے جس میں سردیوں کے زور میں بتدریج کمی واقع ہوجاتی ہے۔