حیدرآباد : ہندوستانی خلائی تحقیقی ادارہ (اسرو)عالمی کمرشل خلائی مارکٹ میں ایک مضبوط مرکز بن کر ابھرا ہے۔ گزشتہ ڈھائی دہائیوں کے دوران ہندوستان نے 434 غیر ملکی سٹلائٹس کو کامیابی سے خلا میں پہنچایا ہے اور 12 جنوری 2026 کوپی ایس ایل وی۔سی 62 کو چھوڑنے کے ساتھ یہ تعداد بڑھ کر 442 ہو جائے گی۔ ہندوستان کے غیر ملکی سیٹلائٹس چھوڑنے کا سفر مئی 1999 میں شروع ہوا تھا جب پی ایس ایل وی۔سی 2 نے جنوبی کوریا کے کٹسائٹ۔3' اور جرمنی کے ڈی ایل آر ٹب سیٹ کو ہندوستانی سیٹلائٹ اوشین سیٹ کے ساتھ خلا میں بھیجا۔ ابتدا میں اسرو صرف چھوٹے غیر ملکی سیٹلائٹس کو ہندوستانی مشن کے ساتھ اضافی پے لوڈ کے طور پر لے جاتا تھا لیکن اپریل 2007 میں یہ صورتحال اس وقت تبدیل ہوئی جب اسرو نے اپنا پہلا مکمل کمرشل راکٹ پی ایس ایل وی۔سی 8 لانچ کیا، اس نے اٹلی کے 350 کلوگرام وزنی سیٹلائٹ اگائل کو مدار میں پہنچایا۔
اب تک کے زیادہ تر غیر ملکی مشنز پی ایس ایل وی راکٹ کے ذریعہ ہی مکمل کئے گئے ہیں تاہم چھوٹے سیٹلائٹس کی بڑھتی ہوئی مارکٹ کے لئے ہندوستان نے ایس ایس ایل وی بھی تیار کیا ہے جس نے 2023 میں امریکی سیٹلائٹ جینس کو خلا میں بھیجا۔ دوسری جانب ہندوستان کے بھاری بھرکم راکٹ ایل وی ایم تری نے بھی عالمی سطح پر اپنا اثرچھوڑا ہے جس نے برطانیہ کی کمپنی ون ویب کے 72 کمیونیکیشن سیٹلائٹس اور 2025 میں امریکی کمپنی ایسٹ اسپیس موبائل کے 6100 کلوگرام وزنی سیٹلائٹ بلیو برڈ 6 کو کامیابی سے لانچ کیا۔
ہندوستان سے سٹلائٹ لانچ کروانے والے ممالک میں امریکہ سب سے آگے ہے جس کے 230 سے زائد سیٹلائٹ روانہ کئے جا چکے ہیں اس کے بعد برطانیہ (83)، سنگاپور (19)، کینیڈا (8) اور جنوبی کوریا (5) کا نمبر آتا ہے۔ دیگر ممالک میں لکسمبرگ، اٹلی، جرمنی، بیلجیم اور فرانس بھی شامل ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہندوستان کے تمام راکٹس میں سے صرف جی ایس ایل وی کو ابھی تک کوئی تجارتی آرڈر موصول نہیں ہوا سوائے ’نثار‘ کے جو ہندوستان اور امریکہ کا مشترکہ منصوبہ ہے۔ یہ تمام اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ہندوستان کی کم لاگت اور قابل بھروسہ خلائی ٹکنالوجی پر دنیا بھر کا اعتماد مسلسل بڑھ رہا ہے۔