انٹرنیشنل ڈیسک: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کی حکومت کو سخت وارننگ دی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر ایران میں جاری ملک گیر احتجاج کے دوران حکومت نے عوام کا قتل شروع کیا تو امریکہ انتہائی سخت اور طاقتور جواب دے گا۔
جمعرات کو کنزرویٹو ریڈیو شو کے میزبان ہیو ہیوٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا، میں نے انہیں صاف بتا دیا ہے کہ اگر وہ لوگوں کو مارنا شروع کرتے ہیں، جیسا کہ وہ اپنے دنگوںکے دوران کرتے ہیں، ان کے یہاں بہت دنگے ہوتے ہیں، اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو ہم ان پر بہت زور دار حملہ کریں گے۔
ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران میں معاشی بحران، مہنگائی، بے روزگاری اور سرکاری پالیسیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے ہو رہے ہیں۔ کئی شہروں میں لوگ سڑکوں پر نکل کر حکومت کے خلاف نعرے بازی کر رہے ہیں۔ پہلے بھی ایسے احتجاج کے دوران ایرانی سکیورٹی فورسز پر حد سے زیادہ طاقت کے استعمال اور شہریوں کی ہلاکتوں کے الزامات لگتے رہے ہیں۔
امریکی صدر نے یہ بھی اشارہ دیا کہ امریکہ ایران کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور حالات بگڑنے پر خاموش نہیں رہے گا۔ ٹرمپ کے بیان سے واضح ہے کہ واشنگٹن ایران میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے معاملے پر مزید سخت موقف اختیار کرنے کے لیے تیار ہے۔
تاہم ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ بہت سخت حملہ کس نوعیت کا ہوگا، لیکن ان کے الفاظ سے یہ اشارہ ضرور ملتا ہے کہ اگر ایران میں تشدد میں اضافہ ہوتا ہے تو امریکہ سیاسی، معاشی یا فوجی اقدامات کر سکتا ہے۔
یہ وارننگ ایسے وقت میں آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے تعلقات پہلے ہی شدید تنا ؤکا شکار ہیں اور ایران میں جاری احتجاج نے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔