National News

''مسلم برادرہڈ'' کے باعث یو اے ای تشویش میں، برطانوی یونیورسٹیوں کے لیے طلبا کی فنڈنگ پر لگا ئی پابندی

''مسلم برادرہڈ'' کے باعث یو اے ای تشویش میں، برطانوی یونیورسٹیوں کے لیے طلبا کی فنڈنگ پر لگا ئی پابندی

لندن/دبئی:متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے برطانوی یونیورسٹیوں میں پڑھنے کے خواہشمند اپنے باصلاحیت طلبہ کو دی جانے والی سرکاری گرانٹس پر پابندی لگا دی ہے۔
یو اے ای انتظامیہ کو خدشہ ہے کہ برطانوی کیمپسز میں ایک انتہاپسند اسلامی گروہ کی جانب سے طلبا کو شدت پسندی کی طرف مائل کیا جا رہا ہے۔
مسلم برادرہڈ کا بڑھتا ہوا اثر تشویش کا سبب
رپورٹس کے مطابق یو اے ای حکومت خاص طور پر مسلم برادرہڈ کے اثر و رسوخ کو لے کر فکرمند ہے۔یو اے ای نے اس گروہ کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔
اماراتی انتظامیہ کا ماننا ہے کہ یہ اسلامی گروہ ان کے نسبتاً سیکولر اور سماجی طور پر لبرل نظام کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔اس قدم کو طلبا کو خبردار کرنے کے ایک طریقے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ وہ برطانیہ میں رہتے ہوئے ایسی سرگرمیوں سے دور رہیں۔
سرکاری فنڈنگ اب دوسرے ممالک کی طرف منتقل ہوگی
یو اے ای اپنے اعلیٰ طلبا کو بیرون ملک تعلیم کے لیے ٹیوشن فیس، رہائش کے اخراجات، سفر اور صحت بیمہ جیسی بڑی گرانٹس فراہم کرتا ہے۔اب یہ سرکاری فنڈنگ برطانیہ کے بجائے دیگر غیر ملکی مقامات کی طرف منتقل کی جائے گی۔
تاہم یہ کوئی مکمل پابندی نہیں ہے۔
جو طلبہ اپنی ذاتی فنڈنگ کے ذریعے برطانیہ جانا چاہتے ہیں، وہ اب بھی وہاں داخلہ لے سکتے ہیں۔
طلبہ کی تعداد پر پڑے گا اثر
سال 2017 سے 2024 کے درمیان برطانوی یونیورسٹیوں میں یو اے ای کے طلبا کی تعداد دوگنی ہو کر 8,500 تک پہنچ گئی تھی۔حکومت کے اس فیصلے سے اس تعداد میں نمایاں کمی آنے کا امکان ہے۔
دیگر ممالک کا موف
صرف یو اے ای ہی نہیں بلکہ فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے بھی گزشتہ سال اس گروہ کے اثر و رسوخ سے نمٹنے کے لیے تجاویز تیار کرنے کے احکامات دیے تھے۔
دوسری جانب برطانیہ میں 2014 میں ہونے والی ایک تحقیق میں کہا گیا تھا کہ اگرچہ اس گروہ کے نظریات برطانوی اقدار کے خلاف ہیں، لیکن اس پر پابندی لگانے کے لیے ضروری شواہد موجود نہیں تھے۔


 



Comments


Scroll to Top