Latest News

اسپرین کی 325 ملی گرام خوراک سے ٹرمپ کا بگڑا توازن ، ڈاکٹروں نے دی یہ بڑی وارننگ

اسپرین کی 325 ملی گرام خوراک سے ٹرمپ کا بگڑا توازن ، ڈاکٹروں نے دی یہ بڑی وارننگ

انٹر نیشنل ڈیسک :  امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اپنے جارحانہ اور بعض اوقات عجیب نظر آنے والے رویے کی وجہ سے اکثر خبروں میں رہتے ہیں۔ حال ہی میں امریکی اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کافی عرصے سے خون کو پتلا رکھنے کے لیے اسپرین کا استعمال کر رہے ہیں۔ جس کا براہ راست اثر ان کے ذہنی توازن اور رویے پر پڑ سکتا ہے۔
ٹرمپ روزانہ 325 ملی گرام اسپرین لے رہے ہیں
ایسی خبریں سامنے آئی ہیں کہ 79 سالہ ڈونالڈ ٹرمپ کو ان کی میڈیکل ٹیم نے بار بار دوا کی مقدار کم کرنے کا مشورہ دیا ہے، لیکن انہوں نے اسے ماننے سے صاف انکار کر دیا۔ ٹرمپ اس وقت روزانہ 325 ملی گرام اسپرین لے رہے ہیں، جو عام طبی رہنما اصولوں میں تجویز کی گئی مقدار سے تقریباً چار گنا زیادہ ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے دل میں گاڑھا خون نہیں چاہتے، اسی لیے وہ یہ خوراک لے رہے ہیں۔

PunjabKesari
رویے پر کیسے اثر پڑتا ہے
ماہرین اور تحقیق کے مطابق اسپرین کا حد سے زیادہ استعمال صرف جسم ہی نہیں بلکہ دماغ پر بھی گہرا اثر ڈالتا ہے۔ اس کی زیادہ مقدار لینے سے ذہن بے چین رہتا ہے اور معمولی باتوں پر انسان جلد ہی مشتعل ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ فیصلے کرنے میں ابہام پیدا ہوتا ہے اور گھبراہٹ محسوس ہوتی ہے۔ وہیں بزرگوں میں طویل عرصے تک اس کے استعمال سے ڈپریشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا بار بار اپنی باتوں سے پلٹ جانا، دوسرے ملکوں کے سربراہان کا مذاق اڑانا اور چہرے کے عجیب تاثرات، اسی طبی حالت کا نتیجہ ہو سکتے ہیں۔

PunjabKesari
زیادہ مقدار کے خطرات
گزشتہ سال یہ بات سامنے آئی تھی کہ ٹرمپ  'کرانک وینس انسیفی شیئنسی '(Chronic Venous Insufficiency) یعنی د ائمی وریدی ناکافی خون کی روانی )کی بیماری میں مبتلا ہیں، جس میں رگوں کو خون واپس دل تک پہنچانے میں دشواری ہوتی ہے۔ حالانکہ وائٹ ہاؤس کے میمو میں ان کی قلبی اور شریانی رپورٹ کو معمول کے مطابق بتایا گیا ہے، لیکن اسپرین کی خون جمنے سے روکنے والی خاصیت اندرونی خون بہنے یا دماغی نکسیر جیسے جان لیوا خطرات کو بڑھا دیتی ہے۔
ماہرین کی رائے
طبی رہنما اصولوں کے مطابق 60 سے 70 سال سے زیادہ عمر کے افراد کو باقاعدگی سے اسپرین لینے کا مشورہ اسی صورت میں دیا جاتا ہے جب انہیں پہلے کبھی دل کا دورہ یا فالج ہو چکا ہو۔ کسی بیماری کی سابقہ تاریخ کے بغیر اس کا استعمال فائدے کے بجائے نقصان پہنچا سکتا ہے۔



Comments


Scroll to Top