واشنگٹن: امریکی خصوصی فورسز کی جانب سے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو دارالحکومت کاراکاس میں واقع ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لے کر نیویارک منتقل کرنا محض ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی نظام کے لیے ایک سنگین انتباہ سمجھا جا رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس امریکہ میں منشیات اور دہشت گردی سے متعلق الزامات میں مقدمے کا سامنا کریں گے۔
لاطینی امریکہ اور کیریبین خطے میں امریکی مداخلتوں کی تاریخ پرانی رہی ہے۔ عام طور پر امریکہ کسی رہنما کو ناقابل قبول قرار دے کر فوجی طاقت کا استعمال کرتا رہا ہے اور راتوں رات اقتدار کی تبدیلی کراتا رہا ہے۔ لیکن ماہرین کے مطابق وینزویلا کا معاملہ ان سب سے مختلف اور کہیں زیادہ تشویشناک ہے۔ اس بار امریکہ نے مہینوں تک بار بار بدلتے ہوئے جواز کی بنیاد پر فوجی کارروائی کی تیاری کی۔ ان کارروائیوں کی حمایت میں ٹھوس شواہد کم اور بیانات زیادہ رہے۔ اسی وجہ سے کئی دانشوروں کا ماننا ہے کہ یہ آپریشن ایسے وقت میں ہوا ہے جب بین الاقوامی قانون پہلے ہی گہرے بحران کا شکار ہے۔
تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ وینزویلا پہلا ملک نہیں ہے جہاں امریکی مداخلت سے اقتدار بدلا گیا ہو۔
- 1953 میں برطانیہ نے برٹش گیانا میں منتخب حکومت کا تختہ الٹ دیا۔
- 1965 میں امریکہ نے ڈومینیکن جمہوریہ میں 22 ہزار فوجی بھیجے۔
- 1983 میں گریناڈا پر حملہ کیا گیا۔
- 1989 میں پنامہ پر یلغار کر کے جنرل نوریگا کو امریکہ لے جایا گیا۔
- 2004 میں ہیٹی کے صدر جین - برترانڈ اریستیڈ کو اقتدار سے ہٹا دیا گیا۔
لیکن 2026 کا وینزویلا ان سب سے مختلف ہے۔ یہ تقریبا تین کروڑ آبادی والا ایک بڑا ملک ہے جس کے پاس منظم اور طویل عرصے سے تیار مسلح افواج موجود ہیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ کارروائی ایسے عالمی ماحول میں ہوئی ہے جہاں مختلف نظریات رکھنے والے ممالک بھی امریکہ پر تنقید کر رہے ہیں۔
- کولمبیا کے صدر گوستاوو پیٹرو نے اسے لاطینی امریکہ کی خودمختاری پر حملہ قرار دیا۔
- برازیل کے صدر لولا دا سلوا نے کہا کہ امریکہ نے ناقابل قبول حد عبور کر لی ہے۔
- میکسیکو کی صدر کلاؤڈیا شین بام نے اسے اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی قرار دیا۔
- یہاں تک کہ امریکہ کے قریبی اتحادی بھی بے چینی کا شکار نظر آئے۔
- فرانس کے وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ کارروائی طاقت کے استعمال سے گریز کے اصول کے خلاف ہے جو بین الاقوامی قانون کی بنیاد ہے۔
- اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی اس خطرناک رجحان پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
- اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2 کی شق 4 کے مطابق کسی بھی ملک کی علاقائی سالمیت یا سیاسی خودمختاری کے خلاف طاقت کا استعمال ممنوع ہے۔
عالمی نظام خطرے میں
اس کارروائی کے بعد کولمبیا نے وینزویلا کی سرحد پر فوج تعینات کر دی ہے جبکہ گیانا نے حفاظتی منصوبے فعال کر دیے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ وینزویلا کو اس وقت تک چلاتا رہے گا جب تک محفوظ اقتدار کی منتقلی مکمل نہیں ہو جاتی۔ تجزیہ کار سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا امریکہ اتنی طویل وابستگی نبھا پائے گا۔ وینزویلا کے وزیر دفاع نے اسے مجرمانہ جارحیت قرار دیتے ہوئے مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ اگر ایک ملک بغیر قانونی اجازت کے دوسرے ملک کے صدر کو اٹھا سکتا ہے تو عالمی نظام کو محفوظ کیسے رکھا جا سکے گا۔