لندن: بلوچ نیشنل موومنٹ نے ہفتے کے روز لندن میں برطانوی وزیر اعظم کی رہائش گاہ 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ کے باہر زوردار احتجاج کر کے بلوچستان میں بڑھتے ہوئے انسانی حقوق کے بحران کو اجاگر کیا۔ تنظیم نے الزام لگایا کہ پاکستانی فوج کی جانب سے بلوچ خواتین، بچوں اور نوجوان لڑکیوں کو زبردستی لاپتہ کیا جا رہا ہے۔ مظاہرین نے انصاف، جوابدہی اور بین الاقوامی مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے لگائے۔ بلوچ نیشنل موومنٹ کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ جبری گمشدگیاں اور اجتماعی سزا بلوچ تحریک کو دبانے کا ہتھیار بن چکی ہیں اور یہ ایک سنگین اخلاقی زوال کی عکاسی کرتی ہیں۔ احتجاج کے دوران مہ جبیں بلوچ، نسینہ بلوچ، فرزانہ بلوچ، ہانی بلوچ اور ہیرنسا کی فوری اور محفوظ واپسی کا مطالبہ کیا گیا۔ بلوچ نیشنل موومنٹ کے مطابق ان خواتین کو بلوچستان کے مختلف علاقوں سے حراست میں لے کر زبردستی لاپتہ کیا گیا۔
On 4th January 2026, at 10 Downing Street, the BNM brought the crisis of occupied Balochistan to the doorstep of the UK Government. BNM demands international sanctions against state terrorism and the immediate recovery of all disappeared persons including baloch women and… pic.twitter.com/brCntAwTG4
— BNM_United Kingdom (@BNM_UK_chapter) January 5, 2026
مقررین نے کہا کہ ریاست کی جانب سے اختلاف رائے کو دبانے کے لیے جبری گمشدگی ایک اہم حکمت عملی بن چکی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں ڈاکٹر مہرنگ بلوچ، بیبو بلوچ، گل زادی بلوچ، بے بگر بلوچ اور صبغت اللہ بلوچ کی گرفتاری پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ الزام لگایا گیا کہ پرامن کارکنوں پر جھوٹے مقدمات درج کر کے انہیں جیل میں رکھا جا رہا ہے، حتی کہ ضمانت ملنے کے باوجود انہیں رہا نہیں کیا جا رہا۔ مظاہرین نے کہا کہ بلوچ خواتین کو نشانہ بنا کر میڈیا ٹرائل اور آن لائن ہراسانی بھی کی جا رہی ہے۔
Baloch National Movement members gathered outside 10 Downing Street to protest enforced disappearances of Baloch women, urging the international community to hold #Pakistan accountable for grave human rights abuses in #Balochistan pic.twitter.com/VF27fjf1Ut
— Aneesa baloch (@Aneesabaloch6) January 5, 2026
بلوچ نیشنل موومنٹ کے رہنماؤں نے دعوی کیا کہ بلوچستان پر پاکستان کا کنٹرول جابرانہ ہے اور موجودہ پارلیمانی نظام بلوچ عوام کی نمائندگی کرنے میں ناکام رہا ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی تنظیموں خصوصا ًایمنسٹی انٹرنیشنل سے آزادانہ تحقیقات اور پاکستان پر دباؤ بڑھانے کی اپیل کی۔ بلوچ نیشنل موومنٹ نے برطانوی حکومت سے سفارتی خاموشی توڑنے، تمام لاپتہ افراد کی بازیابی، مبینہ ریاستی تشدد پر بین الاقوامی پابندیاں عائد کرنے اور بلوچ عوام کے خلاف نظامی جرائم کی عالمی سطح پر شناخت کا مطالبہ کیا۔