مناڈو: انڈونیشیا کے نارتھ سولاویسی صوبے میں شدید بارش کے باعث آنے والے اچانک سیلاب میں کم از کم16 افراد ہلاک ہو گئے۔ حکام نے منگل کو یہ جانکاری دی۔ قومی آفات سے نمٹنے والی ایجنسی کے ترجمان عبدالمحاری نے بتایا کہ مانسون کی بارش کے کئی دنوں کے بعد پیر کی علی الصبح دریاؤں کے باندھ ٹوٹ گئے، جس کے نتیجے میں چٹانوں کے ملبے کے ساتھ کیچڑ بہنے لگا۔

انہوں نے بتایا کہ اس کے باعث سیاو تاگولندانگ بیارو ضلع میں کئی افراد بہہ گئے اور دیہات زیر آب آ گئے۔ محاری کے مطابق پولیس اور فوج کے تعاون سے ہنگامی امدادی کارکنوں کو انڈونیشیا کے چوتھے سب سے بڑے جزیرے سولاویسی کے شمالی سرے سے تقریبا 130 کلومیٹر دور واقع چھوٹے سے جزیرے سیاو کے تباہ شدہ چار دیہات میں تعینات کیا گیا ہے۔ بعض مقامات پر تباہ شدہ سڑکوں اور مواصلاتی سہولتوں میں رکاوٹ کے باعث آمد و رفت متاثر ہے۔

محاری نے بتایا کہ پہاڑیوں سے نیچے آنے والے ملبے اور کیچڑ میں کم از کم 7گھر بہہ گئے اور 140 سے زائد گھروں کو نقصان پہنچا۔ سیلاب کے باعث 680 سے زیادہ رہائشیوں کو گرجا گھروں اور عوامی عمارتوں میں قائم عارضی پناہ گاہوں میں پناہ لینی پڑی۔

نارتھ سولاویسی سرچ اینڈ ریسکیو دفتر کے ترجمان نوریادیان گومیلینگ نے بتایا کہ منگل کو موسم میں بہتری آنے اور سیلابی پانی کم ہونے کے ساتھ ہی امدادی ٹیموں نے سولہ لاشیں برآمد کیں اور ان علاقوں میں تین دیگر لاپتا رہائشیوں کی تلاش جاری رکھی ہوئی ہے۔