Latest News

بی جے پی ترجمان کا بڑا دعویٰ: بنگال میں ہندؤوں کی آبادی غیر متوازن طور پر کم ہو رہی ہے

بی جے پی ترجمان کا بڑا دعویٰ: بنگال میں ہندؤوں کی آبادی غیر متوازن طور پر کم ہو رہی ہے

نیشنل ڈیسک: بی جے پی کے قومی ترجمان پردیپ بھنڈاری نے دعوی کیا ہے کہ مغربی بنگال کے کئی اضلاع میں آبادیاتی صورتحال ایک خطرناک مرحلے میں داخل ہو رہی ہے، کیونکہ ہر گزرتی دہائی کے ساتھ ہندو آبادی کی شرح میں کمی درج کی جا رہی ہے۔
بھنڈاری نے منگل کو اپنے آفیشل  ایکس ہینڈل پر جاری ایک ویڈیو میں یہ دعوی کیا کہ مغربی بنگال کے سرحدی اضلاع میں جس رفتار سے ہندؤوں کی آبادی کم ہو رہی ہے، اسی رفتار سے ان اضلاع میں ہونے والی غیر قانونی دراندازی کی سرگرمیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ہر گزرتی دہائی کے ساتھ ہندو آبادی کی دہائی وار شرح گھٹ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بنگال کی آبادیاتی صورتحال کئی اضلاع میں ایک خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جو تشویشناک طور پر 1940 کی دہائی جیسی حالت سے ملتی جلتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہندؤوں کے اقلیت میں بدلنے کی بات نہیں ہے بلکہ یہ ہندو آبادی کے 70 فیصد سے کم ہو جانے کی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبادیاتی ڈھانچہ ہی جمہوریت کا مستقبل ہے۔
بھنڈاری نے دعوی کیا کہ 1980 میں ریاست میں ہندؤوں کی آبادی 21 فیصد تھی جو اب گھٹ کر 10 فیصد رہ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی وہ حقیقت ہے جو ٹی ایف آر یعنی مجموعی شرحِ تولید کے پورے استدلال کو ناکام بنا دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ مسلم آبادی کی شرح چالیس سال پہلے کے مقابلے میں کم ہوئی ہے، لیکن ہندو آبادی میں کمی کی رفتار مسلم آبادی میں کمی کی رفتار سے کہیں زیادہ تیز ہے۔
اسی وجہ سے ٹی ایف آر کا فرق ہمیشہ برقرار رہتا ہے۔بھنڈاری نے دعوی کیا کہ یہی وجہ ہے کہ مغربی بنگال میں ہندؤوں کی تعداد غیر متناسب طور پر کم ہو رہی ہے، جبکہ ریاست میں مسلمانوں کی آبادی بڑھ رہی ہے۔
 



Comments


Scroll to Top