Latest News

اس ملک میں بند ہوئیں انٹر نیٹ خدمات، حکومت نے کاٹ دیں فون کی لائنیں، جانئے وجہ

اس ملک میں بند ہوئیں انٹر نیٹ خدمات، حکومت نے کاٹ دیں فون کی لائنیں، جانئے وجہ

انٹرنیشنل ڈیسک: ایران کے دارالحکومت تہران سمیت ملک کے کئی شہر اس وقت شدید احتجاجی مظاہروں کی لپیٹ میں ہیں۔ جمعرات 8 جنوری کی رات ملک کی خراب معیشت اور مہنگائی کے خلاف ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ حالات کو قابو سے باہر ہوتا دیکھ کر ایرانی حکومت نے تہران اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں انٹرنیٹ اور ٹیلی فون خدمات مکمل طور پر بند کر دی ہیں تاکہ مظاہرین کے درمیان رابطے کو روکا جا سکے۔
ولی عہد کی اپیل اور عوامی غصہ
یہ احتجاج اس وقت مزید تیز ہو گیا جب جلا وطن ولی عہد(کراؤن پرنس ) رضا پہلوی نے عوام سے بڑے پیمانے پر ریلیاں نکالنے کی اپیل کی۔ رضا پہلوی کے والد، جو ایران کے آخری شاہ تھے، 1979 کے اسلامی انقلاب سے کچھ پہلے ملک چھوڑ کر فرار ہو گئے تھے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ مظاہروں میں شاہ کے حق میں نعرے لگائے گئے۔ ایک وقت ایسا تھا جب ایران میں ایسے نعروں پر سزائے موت دی جاتی تھی، لیکن اب معاشی بدحالی نے لوگوں کے دلوں سے موت کا خوف نکال دیا ہے۔
تشدد اور گرفتاریوں کی بڑھتی تعداد
ایران کے شہروں اور دیہی قصبوں میں بدھ سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ مظاہرین کی حمایت میں کئی بازاروں میں ہڑتال کر دی گئی ہے۔ امریکہ میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹوسٹس ایجنسی کے مطابق تشدد میں اب تک کم از کم 39 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ سکیورٹی فورسز نے اب تک 2260  سے زائد افراد کو حراست میں لیا ہے۔
کیا یہ تحریک اقتدار بدل پائے گی
ایران کی شہری حکومت اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای پر بین الاقوامی اور اندرونی دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ اس تحریک کے سامنے سب سے بڑا چیلنج ایک مضبوط قیادت کی کمی ہے۔ اس بار آزمائش یہ ہے کہ آیا ایرانی عوام بیرون ملک موجود ولی عہد کے پیغامات پر اعتماد کریں گے یا یہ تحریک بھی پچھلے احتجاجوں کی طرح قیادت کے فقدان کے باعث دم توڑ دے گی۔
 



Comments


Scroll to Top