انٹرنیشنل ڈیسک: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران کے بارے میں ایک اہم قرارداد منظور کر لی ہے۔ اس قرارداد میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ خلیجی ممالک پر کیے جا رہے حملوں کو فوراً بند کرے۔ یہ قرارداد بحرین کی قیادت میں پیش کی گئی تھی۔ سلامتی کونسل کے کل پندرہ ارکان میں سے تیرہ ممالک نے اس کے حق میں ووٹ دیا جبکہ اس کے خلاف کوئی ووٹ نہیں پڑا۔ تاہم روس اور چین نے اس رائے شماری میں حصہ نہیں لیا اور ووٹنگ سے دور رہے۔
خلیجی ممالک پر حملوں کی سخت مذمت
قرارداد میں خلیجی خطے کے کئی ممالک پر ہونے والے حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ ان میں بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اردن شامل ہیں۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ان ممالک کو نشانہ بنا کر کیے گئے حملے علاقائی سلامتی اور عالمی استحکام کے لیے سنگین خطرہ پیدا کرتے ہیں۔
ایران سے فوری طور پر حملے روکنے کی اپیل
سلامتی کونسل نے اپنی قرارداد میں ایران سے کہا ہے کہ وہ خلیجی خطے میں جاری فوجی کارروائیاں اور حملے فورا بند کرے اور علاقے میں امن برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کرے۔ ساتھ ہی کونسل نے یہ بھی کہا کہ بین الاقوامی قانون اور عالمی امن کے نظام کو برقرار رکھنا تمام ممالک کی ذمہ داری ہے۔
چین اور روس نے ووٹنگ میں نہیں لیا حصہ
اس قرارداد کے دوران روس اور چین نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ دونوں ممالک کے اس فیصلے کو سفارتی نقط نظر سے اہم سمجھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے اشارہ ملتا ہے کہ دونوں ممالک اس معاملے میں براہ راست ٹکراؤ سے بچتے ہوئے غیر جانب دار رویہ اختیار کرنا چاہتے ہیں۔
خلیجی خطے میں بڑھتے تناؤ کے درمیان فیصلہ
خلیجی خطے میں حالیہ دنوں میں تنا ؤکافی بڑھ گیا ہے۔ ایسے میں سلامتی کونسل کی جانب سے منظور کی گئی یہ قرارداد عالمی سطح پر ایران پر دبا ؤبڑھانے کی کوشش کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے وقت میں اس قرارداد کے بعد علاقائی سفارت کاری اور فوجی صورت حال پر اس کے اثرات دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔