واشنگٹن: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے بھارت پر 50 فیصد ٹیرف عائد کرنے کے فیصلے کو دنیا بھر میں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کا ترک یہ ہے کہ بھارت روس سے تیل خرید رہا ہے اس لیے اس پر اضافی ٹیکس لگا دیا گیا۔ لیکن اس پر سینئر امریکی صحافی اور سیاسی مبصر ریک سانچیز نے ٹرمپ کو منہ توڑ جواب دیا ہے۔ رِیک سانچیز نے ٹرمپ کی پالیسی کو ’توہین آمیز اور جاہلانہ‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان جیسے قدیم اور طاقتور ملک کے ساتھ اس طرح کا سلوک کرنا غلط ہے۔ سانچیز نے کہا۔ہندوستان اسکول کا بچہ نہیں ہے جسے یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ کیا کرنا ہے۔
ہندوستان ایک بڑا کھلاڑی ہے جس کی تاریخ، وسائل اور شراکت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ مغربی ممالک بھارت کو اپنی لائن پر چلانا چاہتے ہیں لیکن بھارت اب اپنے فیصلے خود کرتا ہے۔ سانچیز نے کہا کہ جب امریکہ بھارت کو یہ بتانے کی کوشش کرتا ہے کہ کس سے تیل خریدنا ہے اور کس سے نہیں، تو بھارت کا جواب واضح ہے کہ ”آپ ہمیں یہ نہیں بتائیں گے کہ ہم کس سے تیل خرید سکتے ہیں اور کس سے نہیں“۔ سانچیز نے اسے ایک تاریخی موڑ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آنے والے وقت میں مورخین یقین کریں گے کہ یہ وہ لمحہ تھا جب دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ کا غلبہ کمزور ہونا شروع ہوا اور طاقت کا توازن عالمی جنوب (ہندوستان، چین، روس، برازیل، جنوبی افریقہ) کی طرف منتقل ہوا۔
ریک سانچیز نے ٹرمپ کے اس بیان پر بھی تنقید کی جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے پاک بھارت تنازعہ (آپریشن سندور کے دوران) میں جنگ بندی کی تھی۔ سانچیز نے واضح طور پر کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ جنگ بندی پاکستان کے ڈی جی ایم او نے ہندوستانی فضائیہ کے حکم پر کی تھی۔ یہ ڈی جی ایم او کو فون کرنے کے بعد ہوا، اس میں کسی تیسرے فریق کا کوئی کردار نہیں تھا۔ امریکی صحافی نے نہ صرف ٹرمپ کی پالیسی کو بے نقاب کیا بلکہ ہندوستان کی آزادی اور عالمی اثر و رسوخ کو بھی واضح طور پر سامنے رکھا۔