Latest News

بیکال جھیل میںبڑا حادثہ، چینی سیاحوں سے بھری بس برف میں دھنسی ، 8 افراد کی دردناک موت

بیکال جھیل میںبڑا حادثہ، چینی سیاحوں سے بھری بس برف میں دھنسی ، 8 افراد کی دردناک موت

ماسکو: روس کے سائبیریا علاقے میں واقع دنیا کی سب سے گہری جھیل بیکال جھیل( Lake Baikal ) میں جمعہ کے دن ایک بڑا حادثہ پیش آیا۔ برف سے جمی ہوئی سطح پر چلنے والی ایک سیاحتی بس اچانک برف ٹوٹنے سے جھیل میں جا گری۔ اس حادثے میں آٹھ سیاحوں کی موت ہو گئی۔ مقامی حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے سیاح چینی شہری بتائے جا رہے ہیں۔
تین میٹر چوڑی دراڑ میں گری بس
روس کی ہنگامی حالات کی وزارت کی علاقائی شاخ نے سوشل میڈیا پوسٹ میں بتایا کہ بس برف میں بنی تقریباً تین میٹر چوڑی دراڑ میں جا گری اور دیکھتے ہی دیکھتے پانی میں ڈوب گئی۔ امدادی ٹیم نے زیر آب کیمرے کی مدد سے جھیل کے اندر تلاش کی۔ تقریبا اٹھارہ میٹر گہرائی میں بس مل گئی۔ تفتیش کے دوران آٹھ افراد کی لاشیں نکالی گئیں۔
ایک سیاح نے بچا ئی جان 
ارکتسک علاقے کے گورنر Igor Kobzev نے بتایا کہ عینی شاہدین کے مطابق ایک سیاح بس کے مکمل طور پر ڈوبنے سے پہلے باہر نکلنے میں کامیاب ہو گیا۔ تاہم باقی لوگ بس کے اندر ہی پھنسے رہے اور ان کی جان نہ بچ سکی۔
متاثرین کی قومیت کے بارے میں جانکاری
حکام نے مرنے والوں کی قومیت واضح طور پر نہیں بتائی، لیکن گورنر نے کہا کہ وہ غیر ملکی شہری تھے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پیپلز ریپبلک آف چائنا (PRC )  کے قونصل خانے کو اس واقعے کی اطلاع دے دی گئی ہے۔
بیکال جھیل دنیا کی سب سے گہری جھیل
بیکال جھیل دنیا کی سب سے گہری اور قدیم میٹھے پانی کی جھیل مانی جاتی ہے۔ یہ منگولیا کے شمال میں واقع ہے اور سائبیریا کا ایک اہم سیاحتی مقام ہے۔ سردیوں میں جھیل کی سطح مکمل طور پر جم جاتی ہے۔ برف کے نیچے پھنسی لہروں کی وجہ سے انوکھی آوازیں پیدا ہوتی ہیں اور شفاف، کرسٹل جیسی برف کی تہیں بنتی ہیں جو سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ خاص طور پر چین سے بڑی تعداد میں سیاح یہاں آتے ہیں۔
مقررہ برفیلی راستوں سے ہٹ کر چلانا منع تھا
سردیوں کے دوران انتظامیہ جمی ہوئی سطح پر خاص برفیلی سڑکیں بناتی ہے۔ ان راستوں کی باقاعدہ نگرانی کی جاتی ہے اور موسم کی صورتحال کے مطابق مخصوص قسم کی گاڑیوں کو چلانے کی اجازت دی جاتی ہے۔ ان مقررہ راستوں کے علاوہ جھیل کی برف پر گاڑی چلانا سرکاری طور پر ممنوع ہے۔
تحقیقات کا حکم، فوجداری مقدمہ درج
گورنر ایگور کوبزیف نے بتایا کہ جس راستے سے بس گزر رہی تھی اسے سرکاری طور پر استعمال کے لیے منظوری نہیں دی گئی تھی۔ اس واقعے کے حوالے سے فوجداری مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ انتظامیہ یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ بس ممنوعہ علاقے میں کیسے پہنچی اور حفاظتی قوانین پر عمل کیوں نہیں کیا گیا۔ اس افسوسناک حادثے کے بعد پورے علاقے میں سوگ کا ماحول ہے۔
 



Comments


Scroll to Top