انٹر نیشنل ڈیسک : آج کے دور میں آلو کے بغیر "فرینچ فرائز" یا عالمی کھانوں کا تصور کرنا ناممکن ہے لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا کو بہترین ڈشز دینے والے فرانس میں ایک وقت آلو اُگانے پر قانونی پابندی تھی۔ 1748 سے 1772 کے درمیان فرانس کے لوگ آلو کو نفرت اور خوف کی نظر سے دیکھتے تھے۔
فرانس آلو سے کیوں ڈرتا تھا
16ویں صدی میں جب آلو امریکہ سے یورپ پہنچا تو فرانس کے لوگوں نے اسے اپنانے سے انکار کر دیا۔ اس کے پیچھے کئی عجیب دلائل اور اندھ وشواس ( توہمات ) تھے۔ 18ویں صدی کے فرانس میں لوگوں کا ماننا تھا کہ آلو کھانے سے کوڑھ جیسی خطرناک بیماری ہوتی ہے۔ چونکہ یہ زمین کے نیچے اگتا تھا اس لیے اسے گندگی سے جوڑ کر دیکھا جاتا تھا۔ پادریوں کا کہنا تھا کہ بائبل میں آلو کا کوئی ذکر نہیں ہے اس لیے یہ عیسائیوں کے کھانے کے قابل نہیں ہے۔ زمین کے نیچے اگنے کی وجہ سے اسے شیطان کا کھانا سمجھا جاتا تھا۔ لوگ اسے صرف سوروں اور جانوروں کو کھلانا ہی مناسب سمجھتے تھے۔

جب قحط کے دوران بھی آلو پر پابندی رہی
فرانسیسی حکام نے عوام کے خوف کو دیکھتے ہوئے 1748 میں آلو کی کاشت پر سرکاری پابندی لگا دی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس دور میں یورپ اکثر شدید قحط اور بھوک کا سامنا کر رہا تھا پھر بھی ایک غذائیت سے بھرپور فصل کو غیر محفوظ سمجھ کر مسترد کر دیا گیا۔

وہ ذہن جس نے تاریخ بدل دی
فرانس کی سوچ بدلنے کا سہرا ' انتونی اوگستین پارمنٹیر (Antoine-Augustin Parmentier) نامی ایک فارماسسٹ کو جاتا ہے۔ انہوں نے قحط دور کرنے کے لیے آلو کی اہمیت کو پہچانا لیکن انہوں نے تقریر کرنے کے بجائے نفسیات کا سہارا لیا۔ انہوں نے آلو کے کھیت لگوائے اور دن کے وقت وہاں شاہی سپاہیوں کو تعینات کر دیا۔ اس سے لوگوں کو لگا کہ آلو کوئی بہت قیمتی چیز ہے جس کی حفاظت بادشاہ کر رہا ہے۔ رات میں انہوں نے جان بوجھ کر پہرا ہٹا دیا۔ تجسس میں مبتلا دیہاتیوں نے اسے قیمتی سمجھ کر آلو چرانا شروع کر دیا اور اپنے گھروں میں اُگایا۔ آہستہ آہستہ لوگوں کو معلوم ہوا کہ آلو نہ صرف محفوظ ہے بلکہ مزیدار اور پیٹ بھرنے والا بھی ہے۔

آج کی حقیقت
پارمنٹیر کی اس سمجھداری نے فرانس کو بھوک سے بچا لیا۔ آج فرانس اپنے گرٹین، میشڈ پوٹیٹو اور فرینچ فرائز کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ جس فصل کو کبھی شیطان کے لئے کہا گیا تھا وہی آج فرانس کے باورچی خانے کی شان ۔