واشنگٹن: عالمی مصنوعی ذہانت کی دوڑ کے درمیان ہندوستان نے 'ڈر کی سیاست ' کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ایک بڑا اسٹریٹجک قدم اٹھایا ہے۔ امریکہ کے ساتھ نئی یو ایس انڈیا اے آئی اپرچونٹی پارٹنرشپ ( US-India AI Opportunity Partnership ) کے اعلان کے ذریعے ہندوستان نے واضح اشارہ دیا ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کی اس فیصلہ کن دوڑ میں قیادت کا کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ یہ پہل پیکس سیلیکا ڈیکلیریشن (Pax Silica Declaration)کے تحت دونوں ممالک کے درمیان گہرے ہوتے تکنیکی اور اقتصادی تعاون کو نئی سمت دیتی ہے۔
عالمی اے آئی مقابلے کے دوران امریکہ اور ہندوستان نے ' یو ایس انڈیا اے آئی اپرچونٹی پارٹنرشپ' (US-India AI Opportunity Partnership) کے تحت نئی اسٹریٹجک شراکت داری کا اعلان کیا ہے۔ یہ معاہدہ پیکس سیلیکا ڈیکلیریشن کے تحت ایک دو طرفہ ضمیمے کے طور پر سامنے آیا ہے۔ دونوں ممالک نے واضح کیا کہ وہ اے آئی کی ترقی کو خوف کی سیاست کے بجائے جدت، کاروباری سرگرمیوں اور اقتصادی ترقی کے ماڈل پر آگے بڑھائیں گے۔ بیان میں کہا گیا کہ اکیسویں صدی کی اے آئی انقلاب کی بنیاد اہم معدنیات، توانائی، کمپیوٹنگ صلاحیت اور سیمی کنڈکٹر تیاری جیسے جسمانی ڈھانچے پر قائم ہوگی۔
یہ پہل ڈونالڈ ٹرمپ اور نریندر مودی کی جانب سے پیش کیے گئے TRUST (Transforming the Relationship Utilizing Strategic Technologies) وژن سے بھی جڑی ہے۔ اس معاہدے کے اہم نکات میں ضابطہ جاتی نظام میں ہم آہنگی، سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی، اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانا اور نجی شعبے کی قیادت میں اے آئی جدت کو فروغ دینا شامل ہے۔ دونوں ممالک وینچر کیپیٹل کے بہا، تحقیق و ترقی کی شراکت داری، ڈیٹا سینٹر میں سرمایہ کاری اور اے آئی کمپیوٹنگ اور پروسیسر تک رسائی پر تعاون بڑھائیں گے۔
فزیکل اے آئی اسٹیک (Physical AI Stack) کو مضبوط بنانے کے تحت توانائی کے بنیادی ڈھانچے، اہم معدنیات کی پیداوار، ہنر مند افرادی قوت اور قابل اعتماد سیمی کنڈکٹر نظام کو فروغ دینے پر زور دیا جائے گا۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر اے آئی گورننس، سیمی کنڈکٹر سپلائی چین اور معدنی تحفظ کے بارے میں بحث تیز ہو رہی ہے۔ دونوں جمہوری ممالک نے اشارہ دیا ہے کہ وہ اے آئی قیادت میں پیچھے رہنے کے بجائے اس کی سمت طے کرنے کا ہدف رکھتے ہیں۔