National News

امریکی سفیر نے کہا -اسرائیل عراق سے مصر تک کر لے قبضہ، عرب اور اسلامی ممالک آگ بگولاہوئے

امریکی سفیر نے کہا -اسرائیل عراق سے مصر تک کر لے قبضہ، عرب اور اسلامی ممالک آگ بگولاہوئے

انٹرنیشنل ڈیسک: اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی کے حالیہ بیان پر مشرق وسطیٰ میں بڑا سفارتی تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ قطر کے دارالحکومت دوحہ سے جاری مشترکہ بیان میں 14 عرب اور اسلامی ممالک نے ان کے تبصرے کو “خطرناک اور اشتعال انگیز” قرار دیا۔ یہ تنازع اس انٹرویو کے بعد شروع ہوا، جس میں ہکابی نے امریکی مبصر ٹکر کارلسن سے گفتگو کے دوران کہا تھا کہ اگر اسرائیل پورے خطے پر کنٹرول حاصل کر لے تو “یہ ٹھیک ہوگا۔” گفتگو مبینہ تاریخی دعوو¿ں اور دریائے فرات عراق سے لے کر دریائے نیل مصر تک کے علاقے پر مرکوز تھی۔
کن ممالک نے مخالفت ظاہر کی۔
دوحہ سے جاری مشترکہ بیان پر قطر، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، پاکستان، ترکیے، سعودی عرب، کویت، عمان، بحرین، لبنان، شام اور فلسطین کی وزارت خارجہ نے دستخط کیے۔ اس کے علاوہ، خلیج تعاون کونسل، عرب ریاستوں کی لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم کے سیکریٹریٹ نے بھی مذمت کی۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں یا کسی بھی دیگر عرب زمین پر کوئی خودمختاری حاصل نہیں ہے۔ اس طرح کے تبصرے کو اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کی “واضح خلاف ورزی” قرار دیا گیا۔ بیان میں خبردار کیا گیا کہ اسرائیل کی “توسیع پسندانہ پالیسیاں” علاقائی امن اور استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں اور اس سے تشدد اور تنازع بڑھ سکتا ہے۔
ہکابی کی وضاحت۔
تنازع بڑھنے کے بعد ہکابی نے اپنے تبصرے کو “کچھ حد تک مبالغہ آمیز” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنے موجودہ علاقے کی توسیع نہیں کر رہا ہے اور اسے اپنے موجودہ علاقے میں سلامتی کا حق حاصل ہے۔ تاہم، ناقد ممالک نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے “اشتعال انگیز بیانات” پر روک لگائی جائے، کیونکہ اس سے امن عمل کو نقصان پہنچتا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب غزہ تنازع اور مغربی کنارہ کو لے کر پہلے ہی کشیدگی عروج پر ہے۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ یہ تبصرہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس اعلان کردہ پالیسی سے بھی مطابقت نہیں رکھتا، جس میں غزہ تنازع ختم کرنے اور آزاد فلسطینی ریاست کے لیے سیاسی راستہ بنانے کی بات کہی گئی ہے۔



Comments


Scroll to Top