Latest News

سمندر میں لوٹ مچا رہا امریکہ، روسی تیل ٹینکر پر امریکی قبضے کے بعد پھوٹا روس کا غصہ

سمندر میں لوٹ مچا رہا امریکہ، روسی تیل ٹینکر پر امریکی قبضے کے بعد پھوٹا روس کا غصہ

انٹرنیشنل ڈیسک:  شمالی اوقیانوس میں وینزویلا سے آ رہے روسی تیل بردار ٹینکر ( جہاز)  مری نیرا  (Marinera) کے امریکی فوج کے ہاتھوں قبضے میں لیے جانے کے بعد روس اور امریکہ کے درمیان کشیدگی انتہائی بڑھ گئی ہے۔ روس نے اس کارروائی کو کھلے سمندر میں کی گئی قزاقی( ڈکیتی)  قرار دیا ہے اور امریکہ پر بین الاقوامی قانون توڑنے کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔ ماسکو کا کہنا ہے کہ یہ قدم عالمی بحری سلامتی کے لیے خطرناک مثال بن سکتا ہے۔
روس کا الزام: کھلے سمندر میں زبردستی قبضہ 
روسی سرکاری خبر رساں ادارے تاس  (TASS ) کے مطابق روسی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ وہ روسی پرچم والے ٹینکر پر امریکی فوجی کارروائی سے متعلق تمام خبروں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔ روس نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹینکر پر موجود روسی شہریوں کے ساتھ انسانی اور باوقار سلوک کیا جائے۔ ان کے حقوق اور مفادات کا مکمل احترام ہو اور جہاز پر موجود روسی عملے کی جلد اور محفوظ واپسی میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔
 جہاز سے رابطہ منقطع، روس نے تشویش ظاہر کی
روسی وزارتِ ٹرانسپورٹ نے تصدیق کی ہے کہ صبح تقریبا سات بجے( ای ٹی )کے مطابق امریکی فوجی دستے جہاز پر سوار ہوئے اور اس کے بعد سے ٹینکر مری نیرا سے رابطہ مکمل طور پر منقطع ہو گیا۔ وزارت نے اس کارروائی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ 1982  کے اقوامِ متحدہ کے سمندری قانون یو این سی ایل او ایس کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس قانون کے تحت کوئی بھی ملک کسی دوسرے ملک کے قانونی طور پر رجسٹرڈ جہاز پر طاقت استعمال نہیں کر سکتا۔
 روسی رہنما بولے: یہ کھلم کھلا لوٹ مار ہے 
روس کی پارلیمان کے ایوانِ بالا کے سینئر رہنما آندرے کلیشاس نے امریکہ پر سخت حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی سمندر میں کھلی لوٹ مار ہے اور امریکہ اپنے بنائے ہوئے اصولوں کے نام پر بین الاقوامی قانون کو کچل رہا ہے۔ کلیشاس نے خبردار کیا کہ ایسی وارداتیں عالمی بحری سلامتی کو کمزور کریں گی اور مستقبل میں بڑے تصادم کا سبب بن سکتی ہیں۔
 وائٹ ہاؤس کا بیان: ضرورت پڑی تو عملہ امریکہ لایا جائے گا 
وائٹ ہاؤس نے اس پورے معاملے پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ وینزویلا کی عبوری حکومت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ وزیرِ خارجہ مارکو روبیو براہِ راست وینزویلا کے حکام سے بات چیت کر رہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکہ کے پاس وینزویلا پر خاصا دباؤ اور اثر و رسوخ ہے اور تمام فیصلے امریکی مفادات کو مدِنظر رکھ کر کیے جائیں گے۔ تیل بردار ٹینکر (جہاز)  کے بارے میں امریکہ نے واضح کیا کہ وہ وینزویلا پر عائد تمام پابندیوں کو سختی سے نافذ کرے گا اور ضرورت پڑنے پر جہاز کے عملے کو امریکہ لایا جا سکتا ہے۔
وینزویلا کے تیل پر بڑا معاہدہ تیاری میں
وائٹ ہاؤس نے یہ بھی بتایا کہ امریکہ وینزویلا اور تیل کی صنعت کے ساتھ مل کر ایک بڑے معاہدے پر کام کر رہا ہے۔ اس منصوبے کے تحت وینزویلا کا تیل امریکہ لانے کی تیاری ہے۔ اس کے علاوہ اسی ہفتے تیل کمپنیوں کے اعلی عہدیدار وائٹ ہاؤس پہنچیں گے۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ ان سے براہِ راست ملاقات کریں گے۔ امریکہ نے یہ بھی واضح کیا کہ فی الحال وینزویلا میں امریکی فوجی تعینات نہیں ہیں، لیکن ضرورت پڑنے پر صدر کو فوج استعمال کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ وینزویلا کے حوالے سے امریکہ کی طویل مدتی حکمتِ عملی تیار ہے، جس میں توانائی، سلامتی اور سفارت کاری تینوں شامل ہیں۔
 روسی جنگی جہازوں کے درمیان کارروائی 
یہ ضبطی اس وقت ہوئی جب آئس لینڈ کے قریب سمندر میں روسی بحریہ کی آبدوز اور متعدد جنگی جہاز موجود تھے۔ امریکی حکام نے رائٹرز کو بتایا کہ اس ٹینکر کو پکڑنا اچانک نہیں تھا۔ اسے کئی ہفتوں تک اوقیانوسِ اٹلانٹک میں نگرانی میں رکھا گیا۔ حکام کے مطابق ٹینکر پہلے ہی امریکی بحری ناکہ بندی سے بچ کر نکل چکا تھا۔ امریکی ساحلی محافظوں کی جانب سے بار بار دی گئی ہدایات کو اس نے نظر انداز کیا اور جہاز کی جانچ کے مطالبے کو بھی مسترد کر دیا گیا۔ گرفتاری کے خوف سے ٹینکر نے کھلے سمندر میں اپنی شناخت چھپانے کے لیے پرچم اور رجسٹریشن تک تبدیل کر لی۔
 برطانیہ کا اہم کردار
اس پورے آپریشن میں برطانیہ کا کردار نہایت اہم رہا۔ امریکی حکام کے مطابق یہ مشن امریکی ساحلی محافظ اور امریکی فوج نے مل کر انجام دیا۔ برطانیہ نے اس کارروائی کے لیے اپنی زمین اور ہوائی اڈوں کو لانچ پیڈ کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت دی۔ جب ٹینکر آئس لینڈ اور برطانیہ کے درمیان بحری علاقے سے گزر رہا تھا تو رائل ایئر فورس کے نگرانی طیاروں نے اس پر مسلسل نظر رکھی۔ رائل ایئر فورس نے امریکی فوج کو حقیقی وقت کی خفیہ معلومات فراہم کیں۔
 



Comments


Scroll to Top