Latest News

پولیس اہلکار اور صحافی پر لگا اجتماعی عصمت دری کا الزام ، 2 گھنٹے مسلسل گاڑی میں کی زدیاتی، سچائی جان کر کانپ اٹھے گی روح

پولیس اہلکار اور صحافی پر لگا اجتماعی عصمت دری کا الزام ، 2 گھنٹے مسلسل گاڑی میں کی زدیاتی، سچائی جان کر کانپ اٹھے گی روح

نیشنل ڈیسک: شہر میں ایک ایسی سنسنی خیز واردات سامنے آئی ہے جس نے قانون کے محافظوں اور جمہوریت کے چوتھے ستون، دونوں کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ ایک 14 سالہ معصومہ کا الزام ہے کہ اسے اسکارپیو گاڑی میں اغوا کیا گیا اور پھر جو کچھ ہوا اس نے انسانیت کو شرمسار کر دیا ہے۔ اس معاملے کی آنچ اب محکمے کے بڑے افسران تک پہنچ گئی ہے۔
آدھی رات کا آپریشن اور فرار دروغہ
سچنڈی تھانہ علاقے کی ایک نابالغ لڑکی نے اپنی آپ بیتی سناتے ہوئے بتایا کہ پیر کے روز اسے زبردستی اٹھا کر ایک سنسان جگہ لے جایا گیا۔ متاثرہ کا دعوی ہے کہ اس کے ساتھ اجتماعی زیادتی کرنے والوں میں ایک پولیس کا دروغہ اور دوسرا ایک صحافی شامل تھا۔ واردات کے بعد اسے گھر کے باہر پھینک دیا گیا اور ملزمان فرار ہو گئے۔
منگل کے روز ایف آئی آر درج ہوتے ہی پولیس محکمے میں کھلبلی مچ گئی۔ بدھ کے روز ملزم صحافی شیوبرن کو گرفتار کر لیا گیا، لیکن مرکزی ملزم دروغہ امت موریہ اب بھی پولیس کی گرفت سے باہر ہے۔ اسے پکڑنے کے لیے چار ٹیمیں چھاپے مار رہی ہیں۔
گاج گری تو انسپکٹر اور ڈی سی پی نپے 
معاملے میں حساسیت اور لاپروائی کو دیکھتے ہوئے پولیس کمشنر رگھوبیر لال نے سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔
انسپکٹر وکرم سنگھ معطل: ڈیوٹی میں لاپروائی برتنے کے الزام میں فوری طور پر معطل کیا گیا۔
ڈی سی پی ویسٹ پر کارروائی: دنیش چندر ترپاٹھی کو عہدے سے ہٹا کر ڈی سی پی ہیڈکوارٹر سے منسلک کر دیا گیا ہے۔
ملزم صحافی کا دعوی، سازش یا سچ
گرفتاری کے بعد ملزم صحافی شیوبرن نے خود کو بے گناہ بتاتے ہوئے ایک الگ کہانی پیش کی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ میں نے اس لڑکی کو کبھی دیکھا تک نہیں۔ مجھے دروغہ امت موریہ نے فون کر کے لوہا چوری کے معاملے میں آر پی ایف انسپکٹر سے ملنے کے لیے بلایا تھا۔ میں وہاں موٹر سائیکل سے پہنچا تھا۔ اسی دوران کچھ لوگ اپنی بہن کو تلاش کرتے ہوئے آئے اور بھیڑ کا حصہ ہونے کی وجہ سے میرا نام بھی لکھوا دیا گیا۔ میرا طبی معائنہ کرا لو، میں بے قصور ہوں۔
وہ سوالات جو اب بھی برقرار ہیں

  • کیا دروغہ امت موریہ کی گرفتاری کے بعد کوئی نیا راز سامنے آئے گا۔
  • کیا یہ واقعی ایک سوچ سمجھ کر کی گئی سازش تھی یا رکشک ( محافظ ) ہی بھکشک بن گئے۔
  • آخر وہ سفید اسکارپیو کس کی تھی جس میں اغوا کی بات کہی جا رہی ہے۔
  • کانپور پولیس اب دروغہ کی تلاش اور شواہد جمع کرنے میں مصروف ہے۔ شہر کی نظریں اب فرار امت موریہ پر جمی ہوئی ہیں، جس کے پکڑے جانے کے بعد ہی اس خوفناک سچ سے پردہ پوری طرح اٹھ سکے گا۔
     


Comments


Scroll to Top