ڈھاکہ: بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے جمعرات کو کہا کہ اس نے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر دہلی سمیت ہندوستان میں واقع اپنے اہم مشنز سے ویزا خدمات معطل کرنے کو کہا ہے۔ امور خارجہ کے مشیر ایم توحید حسین نے اپنے دفتر میں ایک میڈیا بریفنگ کے دوران بتایا کہ بنگلہ دیش نے امریکہ کی جانب سے حال ہی میں نافذ کی گئی ویزا بانڈ کی شرط ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
حسین نے کہا کہ میں نے ہندوستان میں واقع اپنے تینوں مشنز کو فی الحال ویزا سے متعلق شعبے بند رکھنے کی ہدایت دی ہے۔ یہ سکیورٹی کا معاملہ ہے۔ مشیر کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب کولکتہ میں واقع بنگلہ دیش کے نائب ہائی کمیشن نے راتوں رات ویزا خدمات بند کر دی تھیں جبکہ دہلی اور اگرتلہ میں بھی اسی طرح کے اقدامات کیے گئے تھے جن میں تجارتی اور ورک ویزا کو اس دائرے سے باہر رکھا گیا تھا۔
بنگلہ دیش کے ممبئی اور چنئی میں بھی سفارتی مشنز موجود ہیں جہاں ویزا خدمات جاری رہیں۔ ہندوستان نے سکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے اس سے پہلے پانچ اگست 2024کے بعد بنگلہ دیشی شہریوں کے لیے ویزا پر پابندی عائد کر دی تھی۔ جولائی اور اگست 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والے پرتشدد احتجاج کے بعد اس وقت کی وزیر اعظم شیخ حسینہ کی عوامی لیگ حکومت کے خاتمے کے بعد سے بنگلہ دیش اور ہندوستان کے تعلقات کشیدہ ہیں۔
حسین نے صحافیوں سے یہ بھی کہا کہ بنگلہ دیش امریکہ کی جانب سے حال ہی میں نافذ کی گئی ویزا بانڈ کی شرط سے چھوٹ حاصل کرنے کے لیے سفارتی کوششیں کرے گا۔ انہوں نے اس فیصلے کو یقینی طور پر ہمارے لیے بدقسمت اور تکلیف دہ قرار دیا۔
تاہم انہوں نے کہا کہ امریکی فیصلہ غیر معمولی نہیں تھا کیونکہ یہ صرف بنگلہ دیش پر لاگو نہیں ہوا ہے اور امریکی انتظامیہ کے اس اقدام کے باعث کئی ممالک کو امیگریشن سے متعلق چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اسی دوران جب امور خارجہ کے مشیر سے پاکستان سے جے ایف 17 تھنڈر لڑاکا طیارے خریدنے میں بنگلہ دیش کی ممکنہ دلچسپی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ میں آج اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ لیکن بات چیت جاری ہے۔ جب معاملات کو حتمی شکل دے دی جائے گی تو آپ کو معلوم ہو جائے گا۔