National News

پاکستان حماس اور مسلم برادرہڈ سے بڑھا رہا نذدیکیاں، جنوبی ایشیا میں پراکسی جنگ کا خطرہ بڑھا: رپورٹ

پاکستان حماس اور مسلم برادرہڈ سے بڑھا رہا نذدیکیاں، جنوبی ایشیا میں پراکسی جنگ کا خطرہ بڑھا: رپورٹ

انٹرنیشنل ڈیسک: کابل سے سامنے آنے والی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان کی فوجی اور سیاسی نظام سخت گیر اسلامی تنظیموں کو آپریشنل جگہ فراہم کر رہا ہے، جس سے علاقائی سلامتی پر سنگین اثر پڑ سکتا ہے۔ افغان ڈائسپورا نیٹ ورک کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان حماس اور مسلم برادرہڈ جیسی تنظیموں کو پلیٹ فارم دے رہا ہے، جس سے مقامی دہشت گرد تنظیموں جیسے لشکر طیبہ اور جیش محمد کو نظریاتی اور نیٹ ورک حمایت مل سکتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ بین الاقوامی دباو¿ کے تحت پاکستان نے لشکر طیبہ اور جیش محمد پر پابندیاں عائد کی ہیں، لیکن یہ تنظیمیں ذیلی اداروں اور فرنٹ ڈھانچوں کے ذریعے سرگرم بنی ہوئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، پاکستان نے جنوری 2024 میں اپنی سینیٹ میں حماس کے نمائندے خالد قدومی کی میزبانی کی۔ فروری 2025 میں وہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ایک پروگرام میں بھی شریک ہوئے اور مذہبی و سیاسی شخصیات سے ملاقات کی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کی سرگرمیاں پاکستان کو صرف جنوبی ایشیا ہی نہیں بلکہ مشرق وسطیٰ کے حالات میں بھی ایک متنازع کردار میں لا رہی ہیں۔ رپورٹ نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کا مشرق وسطیٰ کی جانب جھکاو “غلط اندازہ، نظریاتی پھیلاواور پراکسی الجھاو¿” کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ اگر حماس جیسی تنظیموں کو پاکستان میں سیاسی پلیٹ فارم ملتا ہے تو اس سے ملک کا “دہشت گردی کی حمایت کرنے والا ملک” ہونے کا عالمی بیانیہ مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔ حماس کو امریکہ اور یورپی یونین سمیت کئی مغربی ممالک نے دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔ رپورٹ میں بین الاقوامی برادری سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ پاکستان کی مشرق وسطیٰ پالیسی کو ایک “فوری خطرہ نظم و نسق کا چیلنج” کے طور پر دیکھے، تاکہ جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں نئے پراکسی تنازعات اور مسلح جھڑپوں کو روکا جا سکے۔



Comments


Scroll to Top