National News

کرتویہ پتھ پر فوج کی جنگی حکمتِ عملی ’بیٹل اَرے‘ کی نایاب جھلک

کرتویہ پتھ پر فوج کی جنگی حکمتِ عملی ’بیٹل اَرے‘ کی نایاب جھلک

نئی دہلی: یومِ جمہوریہ کی پریڈ کے دوران کرتویہ پتھ پر پہلی بار ہندستانی فوج کی جنگی میدان کی خصوصی حکمتِ عملی یعنی ’بیٹل اَرے‘ کی نایاب جھلک دیکھنے کو ملی, اس موقع پر ہندستانی فوج نے اپنے اس مضبوط اور جدید روپ کا مظاہرہ کیا جو مستقبل میں کسی بھی قسم کی جنگ کے لیے پوری طرح تیار ہے 77ویں یومِ جمہوریہ کے موقع پر پیر کو یہاں منعقدہ تقریب میں ہندستانی فوج نے جموں و کشمیر کے پہلگام میں ہوئے دہشت گرد حملے کے ذمہ دار عناصر کے خلاف پاکستان میں موجود دہشت گردوں پر کیے گئے آپریشن سندور کی کامیابی کا جشن منایا۔ اس کے تحت فوجی جوان پہلی بار ایک منفرد اور خصوصی جنگی ترتیب ’بیٹل اَرے‘ فارمیشن میں نظر آئے۔ اس دوران تماشائیوں کو جدید جنگی میدان میں ایک مربوط، نیٹ ورک سے منسلک اور جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس فوجی نظام کی نایاب جھلک دیکھنے کو ملی۔
اس سال کرتویہ پتھ پر فوج کی جھانکی میں ایک مربوط آپریشنل مرکز کی نمائش کی گئی، جس میں ’سدرشن چکر‘ کے حفاظتی حصار کے تحت مشترکہ منصوبہ بندی، درست ہدف بندی اور فضائی دفاع کو پیش کیا گیا۔ اس کے ذریعے یہ دکھایا گیا کہ جدید جنگوں کی منصوبہ بندی کس طرح کی جاتی ہے اور ان پر حقیقی وقت میں عمل درآمد کیسے ہوتا ہے۔
پریڈ کی تاریخ میں پہلی بار ہندستانی فوج کے مارچنگ اور مکینائزڈ کالم کو جنگی بنیاد پر جارحانہ فارمیشن میں منظم کر کے پیش کیا گیا، جس سے یہ واضح ہوا کہ فوجی کارروائیوں کے دوران مختلف سکیورٹی عناصر کو کس ترتیب سے استعمال کیا جاتا ہے۔
’بیٹل اَرے‘ ایک ایسی ہندستانی فوج کی عکاسی کرتا ہے جو ہمہ وقت تیار، مو¿ثر اور فوری ردِعمل کی صلاحیت رکھتی ہے، جہاں انٹیلی جنس، نگرانی اور جاسوسی عناصر، مکینائزڈ فورسز، فضائی وسائل، اسپیشل فورسز، توپ خانہ، فضائی دفاع اور لاجسٹکس کو ایک منظم آپریشنل ڈھانچے میں ضم کیا گیا ہے۔
یہ جنگی ترتیب ڈیٹا پر مبنی کارروائیوں، طویل فاصلے تک مار کرنے والے درست ہتھیاروں اور مقامی طور پر تیار کردہ پلیٹ فارمز کے ذریعے دشمن کے علاقے میں گہرائی تک نگرانی، فیصلہ سازی اور حملے کی ہندستانی فوج کی صلاحیت کو اجاگر کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کثیر سطحی فضائی دفاعی حصار کے ذریعے مکمل تحفظ کو بھی یقینی بناتی ہے۔
’بیٹل اَرے‘ دراصل آپریشن سندور کی نمایاں کامیابی کا جشن تھا، جو ہندساتنی فوج کی جنگی تیاری، معاون افواج کے ساتھ ہم آہنگی اور آتم نربھر بھارت کے تحت تیار کی گئی مقامی دفاعی نظاموں پر بڑھتے انحصار کو نمایاں کرتا ہے۔
اس جنگی حکمتِ عملی میں ٹی-90 بھیشم اور ارجن مین بیٹل ٹینک، بی ایم پی-ٹو سارتھک، نامِس-ٹو میزائل نظام، اے ایل ایچ دھرو، رودر، اپاچی اے ایچ-64ای، ایل سی ایچ پرچنڈ جیسے فضائی وسائل، اَٹاگز، دھن±ش، سوریاستر، برہموس سمیت طویل فاصلے تک مار کرنے والا توپ خانہ اور میزائل نظام، نیز آکاش اور درمیانی فاصلے کی زمین سے فضا میں مار کرنے والی ایم آر سیم فضائی دفاعی نظام شامل تھے۔
اس کے علاوہ کئی پلیٹ فارمز اور یونٹس پہلی بار یومِ جمہوریہ پریڈ میں شامل ہوئے، جو فوج کی تیز رفتار جدید کاری اور تکنیکی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان میں بھیرَو بٹالین، شکتی بان رجمنٹ، دیویاسطر بیٹری، ایڈوانسڈ ٹوئڈ آرٹلری گن سسٹم (155 ملی میٹر)، طویل فاصلے تک مار کرنے والا یونیورسل راکٹ لانچر سسٹم، بغیر انسانی عملے کے زمینی گاڑیاں، روبوٹک ڈاگ، ڈرون، لوئٹرنگ میونیشن سے لیس جنگی پلیٹ فارمز اور خصوصی طور پر تربیت یافتہ بیکٹرین اونٹ، زانسکر ٹٹو، شکاری پرندے اور سوان شامل ہیں۔
پریڈ میں فوج کی چھ مارچنگ ٹکڑیوں نے حصہ لیا، جن میں آپریشنل کردار میں شامل مخلوط اسکاوٹس ٹکڑی، راجپوت رجمنٹ، آسام رجمنٹ، جموں و کشمیر لائٹ انفنٹری رجمنٹ، رجمنٹ آف آرٹلری اور بھیرَو بٹالین شامل تھیں۔ ان کے ساتھ بحریہ، فضائیہ، مرکزی مسلح پولیس فورسز اور دہلی پولیس کی ٹکڑیاں بھی شریک ہوئیں۔
اس سال پریڈ میں مجموعی طور پر 6,065 فوجی اہلکار شامل ہوئے اور اس کی قیادت لیفٹیننٹ جنرل بھونیش کمار نے کی۔ پریڈ میں 12 فوجی بینڈ اور آٹھ پائپ بینڈ بھی شامل تھے۔



Comments


Scroll to Top