نئی دہلی: جب ملک اپنا 77واں یومِ جمہوریہ منا رہا ہے، ہندستانی فوج قوم سازی اور انسانی خدمت کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم کی ایک بار پھر توثیق کر رہی ہے فوج نہ صرف سرحدوں کے تحفظ میں مضبوط ستون کی حیثیت رکھتی ہے بلکہ بحران کے اوقات میں شہریوں کی مدد میں بھی پیش پیش رہتی ہے سخت آپریشنل ذمہ داریوں کے باوجود، ہندستانی فوج ملک کے اندر اور بیرونِ ملک انسانی امداد اور آفات سے نمٹنے کی کارروائیوں میں صفِ اوّل میں رہی۔
سال کے دوران، انجینئر ٹاسک فورسز سمیت فوج کے 141 کالم 10 ریاستوں کے 80 سے زائد مقامات پر تعینات کیے گئے۔ ان کوششوں کے نتیجے میں 28 ہزار سے زائد افراد کو بچایا گیا، 7,300 سے زیادہ افراد کو طبی امداد فراہم کی گئی، جبکہ 2,600 سے زائد متاثرہ شہریوں میں امدادی سامان تقسیم کیا گیا۔ نمایاں کارروائیوں میں میانمار میں آپریشن برہما، دھارالی (اتراکھنڈ) میں ریسکیو مشن، دیماپور میں سیلابی امداد، چسوتی–کشتواڑ (جموں و کشمیر) اور پوھ (ہماچل پردیش) میں امدادی سرگرمیاں شامل ہیں۔
انسانی خدمت کے متوازی، فوج نے خواتین کو بااختیار بنانے اور جامع ترقی کے فروغ میں بھی نمایاں پیش رفت کی ہے۔ پالیسی اصلاحات کے ذریعے بھرتی، تربیت اور قیادت کے شعبوں میں خواتین کے لیے مواقع میں توسیع کی گئی ہے۔ ان اقدامات میں تمام سینک اسکولوں میں لڑکیوں کے لیے 10 فیصد ریزرویشن، راشٹریہ ملٹری اسکولوں میں شمولیت، آفیسرز ٹریننگ اکیڈمی میں سالانہ 120 نشستوں کی تخصیص اور خواتین کیڈٹس کی تعداد 80 سے بڑھا کر 144 سالانہ کرنا شامل ہے۔