National News

بدھ مت کے مقدس مقامات اور یادگار کا تحفظ حکومت کی ترجیح: وزیراعظم مودی

بدھ مت کے مقدس مقامات اور یادگار کا تحفظ حکومت کی ترجیح: وزیراعظم مودی

نئی دہلی:وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز کہا کہ مہاتما بدھ سے وابستہ تمام مقامات کا تحفظ اور ان کی ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ وہ مہاتما بدھ سے متعلق مقدس آثار کی بین الاقوامی نمائش کے افتتاحی پروگرام سے خطاب کر رہے تھے۔
وزیراعظم نے کہا کہ سوا سو سال کے طویل انتظار کے بعد مہاتما بدھ سے وابستہ ہندوستان کی بیش قیمت تہذیبی وراثت واپس لوٹی ہے اور اب ملک کے عوام ان مقدس آثار کے دیدار کر کے ان سے برکت حاصل کر سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سال 2026 کے آغاز میں یہ ان کے لیے نہایت ہی تحریک بخش موقع ہے کہ ان کا پہلا عوامی پروگرام بھگوان بدھ کے قدموں سے شروع ہو رہا ہے۔
جن مقدس آثار کی نمائش کا وزیراعظم نے افتتاح کیا، ان میں کچھ ہڈیاں بھی شامل ہیں، جن کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ یہ بھگوان بدھ کے جسمانی آثار ہیں۔ یہ آثار تیسری صدی قبل مسیح کے ہیں اور قدیم ترین مانے جاتے ہیں۔ اس عظیم الشان نمائش میں 127 برس بعد واپس لائی گئی مقدس پِپرہوا کی اشیاء رکھی گئی ہیں۔ نمائش کا عنوان ”لائٹ اینڈ لوٹس: ریلیکس آف دی اویکنڈ ون“ رکھا گیا ہے۔
وزیراعظم مودی نے کہا کہ کروڑوں افراد ان مقدس آثار کے دیدار کر چکے ہیں اور یہ آثار پوری دنیا کو نئی راہ دکھاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان صرف ان آثار کا محافظ ہی نہیں بلکہ ان کے پیغامات کا زندہ امین بھی ہے۔ ہندوستان کی مسلسل کوشش رہتی ہے کہ دنیا بھر میں بدھ مت سے وابستہ مقامات کی ترقی میں تعاون فراہم کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بدھ مت سے جڑے کئی مقامات تاریخی طور پر اہم مراکز رہے ہیں اور حکومت آج ان کے تحفظ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ حال ہی میں جموں و کشمیر میں بدھ مت کے دور سے متعلق آثار دریافت ہوئے ہیں، جن کے تحفظ کا کام بھی حکومت کر رہی ہے۔ شراوستی، سانچی، امراوتی اور ناگارجن ساگر جیسے مقامات پر بدھ مت کی وراثت کا تحفظ اور فروغ کیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ چونکہ مہاتما بدھ کے پیغامات پالی زبان میں تھے، اس لیے اس زبان کو کلاسیکی زبان کا درجہ دیا جا رہا ہے تاکہ ان تعلیمات کو ان کی اصل شکل میں سمجھا جا سکے۔
قبل ازیں وزیر ثقافت گجیندر سنگھ شیخاوت نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ اشیاءمہاتما بدھ کی زندہ روایت سے جڑی ہوئی ہیں اور یہ ورثے کے تحفظ کے عزم کا نتیجہ ہیں۔
                
 



Comments


Scroll to Top