نیویارک: نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کی امریکی فوج کے ہاتھوں گرفتاری کو بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی اور 'جنگی جارحیت' قرار دیا ہے ان کے مطابق طاقت کے استعمال کے ذریعے حکومتوں کی تبدیلی نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔ڈیموکریٹک پارٹی کے سوشلسٹ دھڑے سے وابستہ ممدانی نے اس کارروائی کی کھلے لفظوں میں مخالفت کی، جس کے تحت مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورِس کو حراست میں لیا گیا۔ امریکی حکام کے مطابق دونوں کو 2020 سے منشیات سے منسلک دہشت گردی کے الزامات کے تحت مطلوب قرار دیا گیا تھا، تاہم ممدانی کے نزدیک یہ اقدام قانونی کم اور سیاسی زیادہ ہے۔
بروکلین میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میئر نے انکشاف کیا کہ انہوں نے اس فوجی کارروائی پر شدید اعتراض ریکارڈ کرانے کے لیے صدر ٹرمپ کو براہِ راست فون کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اختلاف وائٹ ہاوس کے ساتھ ان کا پہلا براہِ راست تصادم ہے، جو انہوں نے گزشتہ بدھ کو میئر کے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد کیا۔
ممدانی نے واضح کیا کہ ان کی مخالفت کی بنیاد طاقت کے ذریعے حکومتوں کی تبدیلی کے خلاف اصولی موقف اور بین الاقوامی قوانین کے احترام پر ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی خودمختار ریاست پر یکطرفہ حملہ نہ صرف عالمی قوانین کو پامال کرتا ہے بلکہ اس کے منفی اثرات امریکہ کے اندر بھی محسوس کیے جاتے ہیں، خاص طور پر نیویارک جیسے شہر میں جہاں وینزویلا سے تعلق رکھنے والی ایک بڑی کمیونٹی آباد ہے۔
اسی معاملے پر امریکی کانگرس کی رکن الیگزانڈریا اوکاسیو کورٹیز نے بھی فوجی کارروائی کے پسِ پردہ مقاصد پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر اپنے بیان میں کہا کہ منشیات کے خلاف کارروائی کا موقف محض ایک جواز ہے، جبکہ اصل ہدف وینزویلا کے تیل کے ذخائر اور وہاں کی حکومت کی تبدیلی ہے۔
کورٹیز کے مطابق امریکی انتظامیہ اس معاملے کو استعمال کر کے عوام کی توجہ اندرونِ ملک سنگین مسائل، جیسے صحت کی سہولیات کی بڑھتی ہوئی لاگت اور ایپ اسٹین کیس جیسے حساس معاملات سے ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔
ادھر نیویارک کی گورنر کیتھی ہوکل نے بھی صدر ٹرمپ کی جانب سے اس فوجی کارروائی کی منظوری پر شدید ردِعمل ظاہر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کانگریس کی اجازت کے بغیر ایسی کارروائی اختیارات کے کھلے ناجائز استعمال کے مترادف ہے اور یہ امریکی آئینی روایات کے خلاف ہے۔
کانگریس میں ڈیموکریٹک قیادت، جس کی نمائندگی حکیم جیفریز اور چک شومر کر رہے ہیں، نے بھی ایک مشترکہ بیان جاری کیا۔ بیان میں ٹرمپ کے وینزویلا کو عارضی طور پر چلانے کے مبینہ ارادے کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ کانگریس کے سینئر اراکین کو فوری طور پر انٹیلی جنس بریفنگ دی جائے، تاکہ اس فوجی کشیدگی کے ممکنہ نتائج اور خطے پر پڑنے والے اثرات کا مکمل جائزہ لیا جا سکے۔