National News

مغربی ایران میں مظاہروں کے دوران جھڑپوں میں3 افراد ہلاک

مغربی ایران میں مظاہروں کے دوران جھڑپوں میں3 افراد ہلاک

تہران:ایران کے مغربی صوبہ ایلام میں ہفتہ کی شام مظاہروں کے دوران ہونے والی جھڑپوں میں تین افراد ہلاک ہو گئے۔ نیم سرکاری فارس نیوز ایجنسی نے باخبر ذرائع کے حوالے سے یہ اطلاع دی۔
فارس خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ فسادیوں نے ملک شاہی کاونٹی میں قانون نافذ کرنے والے ایک مرکز پر حملہ کرنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں، اس میں سکیورٹی فورسز کا ایک رکن اور دو فسادی مارے گئے، جب کہ متعدد زخمی ہوئے۔
اس سے قبل ہفتے کے روز فارس خبر رساں ایجنسی نے اطلاع دی تھی کہ ایران کے اسلامی انقلابی گارڈز کور سے وابستہ بسیج رضاکار فورس کا ایک رکن مغربی صوبے کرمانشاہ میں بدامنی کے دوران مارا گیا۔ ایجنسی نے کہا کہ علی عزیزی جمعہ کو ہارسین کاونٹی میں ایک احتجاج کے دوران چاقو اور گولی لگنے سے ہلاک ہو گئے۔
ایرانی کرنسی ریال کی قدر میں زبردست گراوٹ کے خلاف اتوار سے ایران کے کئی شہروں میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔ حکام نے مظاہروں کو تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ معاشی شکایات کو دور کرنے کے لیے تیار ہیں، نیز تشدد، توڑ پھوڑ اور بدامنی کے خلاف انتباہ بھی دیا ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی حسینی خامنہ ای نے کل کہا کہ تاجروں کے احتجاج کا فائدہ اٹھاکر بدامنی کو ہوا دینا اور قومی سلامتی کو نقصان پہنچانا مکمل طور پر ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکام کو مظاہرین کے ساتھ بات چیت کرنی چاہیے، لیکن ان لوگوں کے ساتھ نہیں جو فساد برپا کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فسادیوں کو ان کی وقعت دکھادینی چاہیے۔
مسٹرخامنہ ای نے تسلیم کیا کہ ریال کی گراوٹ نے کاروباری ماحول کو درہم برہم کر دیا ہے اور زرمبادلہ کی شرح میں غیر معمولی اضافے کے لیے دشمن کے اقدامات کو مورد الزام ٹھہرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر مسعود پیزشکیان سمیت سینئر حکام صورتحال سے نمٹنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔



Comments


Scroll to Top