Latest News

کچھ بڑا ہونے والا ہے- ٹرمپ کےنشانے پر اب یہ3 ممالک ، صدور کو دی کھلی دھمکی ، اگلی باری تمہاری .....،اپنی جان بچا لو

کچھ بڑا ہونے والا ہے- ٹرمپ کےنشانے پر اب یہ3 ممالک ، صدور کو دی کھلی دھمکی ، اگلی باری تمہاری .....،اپنی جان بچا لو

انٹرنیشنل ڈیسک: وینزویلا میں امریکی فوج کی جانب سے کیے گئے بڑے فوجی حملے اور صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا اگلا ہدف میکسیکو، کیوبا اور کولمبیا ہیں۔ ان تینوں ممالک کو سخت وارننگ دیتے ہوئے ٹرمپ نے صاف لفظوں میں کہا کہ اگر ان ممالک نے منشیات کی اسمگلنگ اور مبینہ نارکو دہشت گرد سرگرمیوں پر قابو نہ پایا تو اگلی باری انہی کی ہے اور امریکہ آگے بھی کارروائی کر سکتا ہے، اس لیے ان کے صدور اپنی جان بچا لیں۔ ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ امریکہ خطے میں “بوٹس آن دی گراونڈ” یعنی زمینی فوجی تعیناتی سے بھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔ انہوں نے کہا کہ وینزویلا مہم اس بات کا اشارہ ہے کہ امریکہ اپنے قومی مفادات اور سلامتی کے معاملے میں اب کسی قسم کی نرمی نہیں برتے گا۔
کیوبا پر بیان۔
کیوبا کے بارے میں ٹرمپ نے کہا کہ یہ ایک “ناکام ریاست” بن چکی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کیوبا کے عوام کی مدد کرنا چاہتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے وہ وینزویلا کے عوام کے لیے کر رہا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ان لوگوں کی بھی مدد کرنا چاہتا ہے جنہیں کیوبا چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا اور جو اب امریکہ میں رہ رہے ہیں۔
کولمبیا پر سخت حملہ۔
کولمبیا کے صدر گوستاوو پیٹرو پر ٹرمپ نے انتہائی جارحانہ بیان دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کولمبیا میں “کم از کم تین بڑے کوکین کارخانے” ہیں جہاں سے منشیات امریکہ بھیجی جا رہی ہے۔ ٹرمپ نے پیٹرو کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں “ہوشیار رہنا چاہیے”۔ پیٹرو کو مادورو کا حلیف مانا جاتا ہے اور انہوں نے امریکہ پر وینزویلا میں اقوام متحدہ کے اصولوں کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے۔
میکسیکو کو لے کر الزامات۔
میکسیکو کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ صدر کلاڈیا شینبام اپنے ملک پر قابو نہیں رکھ پا رہی ہیں کیونکہ منشیات کے کارٹیل دراصل ملک چلا رہے ہیں۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے کئی بار میکسیکو کو کارٹیلز کے خلاف کارروائی کی پیشکش کی لیکن ہر بار انکار کر دیا گیا۔
علاقائی اور عالمی ردعمل۔
میکسیکو، کیوبا اور کولمبیا نے امریکی کارروائی کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے علاقائی امن کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ کیوبا کے صدر میگوئل دیاث کینیل نے اس حملے کو “بزدلانہ اور مجرمانہ” قرار دیا، جبکہ میکسیکو نے لاطینی امریکہ کو “امن کا خطہ” بتایا۔ امریکہ میں بھی کئی ارکان پارلیمنٹ نے کانگرس کی اجازت کے بغیر کی گئی اس کارروائی پر سوال اٹھائے ہیں اور ٹرمپ پر ایک اور غیر ضروری جنگ شروع کرنے کا الزام لگایا ہے۔



Comments


Scroll to Top