واشنگٹن: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ کے معاملے پر اپنے جارحانہ مؤقف کو مزید تیز کر دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے اعلی عہدیداروں کے ساتھ اجلاس کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ گرین لینڈ امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے بالکل ضروری ہے اور اگر اسے سفارتی طریقے سے حاصل نہیں کیا جا سکا تو امریکہ کو سخت راستہ اختیار کرنا پڑ سکتا ہے۔ ٹرمپ نے دعوی کیا کہ گرین لینڈ کے ارد گرد سمندری علاقوں میں روسی اور چینی جہازوں کی بھرمار ہے اور اگر امریکہ نے وقت پر قدم نہ اٹھایا تو روس یا چین اس اسٹریٹجک جزیرے پر قبضہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے ایسا نہیں کیا تو روس یا چین گرین لینڈ پر قبضہ کر لیں گے اور ہم انہیں اپنا پڑوسی نہیں بننے دیں گے۔
گرین لینڈ اگرچہ ڈنمارک کے زیرِ انتظام ایک خود مختار خطہ ہے، لیکن ٹرمپ انتظامیہ مسلسل یہ سوال اٹھا رہی ہے کہ آیا کوپن ہیگن اس وسیع اور معدنی وسائل سے بھرپور جزیرے کا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔ نائب صدر جے ڈی وینس پہلے ہی ڈنمارک پر میزائل ڈیفنس اور آرکٹک سکیورٹی کے حوالے سے ناکامی کا الزام لگا چکے ہیں۔ تاہم اس بیان بازی پر یورپ میں سخت ردِعمل سامنے آیا ہے۔ ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن نے واضح طور پر کہا کہ اگر امریکہ نے گرین لینڈ پر زبردستی قبضہ کرنے کی کوشش کی تو یہ نیٹو کے خاتمے کا اشارہ ہوگا۔ انہوں نے اسے گرین لینڈ کی خود مختاری کے لیے توہین آمیز اور مضحکہ خیز قرار دیا۔ اسٹریٹجک نقطہ نظر سے گرین لینڈ کی اہمیت بے حد زیادہ ہے۔ یہ GIUK گیپ( گرین لینڈ، آئس لینڈ اور برطانیہ ) پر مشتمل ایک اہم بحری چوک پوائنٹ پر واقع ہے اور یہاں نایاب معدنیات کے وسیع ذخائر موجود ہیں، جو ہائی ٹیک اور فوجی آلات کے لیے ضروری سمجھے جاتے ہیں۔
امریکہ پہلے ہی 1951 کے معاہدے کے تحت پٹوفک اسپیس بیس،( پہلے تھول ایئر بیس )، چلا رہا ہے، لیکن ٹرمپ کے مطابق صرف فوجی رسائی اب کافی نہیں ہے۔ اگرچہ سخت قدم کی دھمکی دی گئی ہے، اس کے باوجود امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو آئندہ ہفتے ڈنمارک اور گرین لینڈ کے رہنماؤں سے ملاقات کر کے معاشی پیکیج جیسے متبادل پر بات چیت کر سکتے ہیں۔ اس کے باوجود سروے بتاتے ہیں کہ نوے فیصد سے زائد گرین لینڈ کے باشندے امریکہ میں شامل ہونے کے خلاف ہیں۔ ٹرمپ کے اس بیان نے واضح کر دیا ہے کہ آرکٹک خطہ اب نئی عالمی طاقتوں کی مسابقت کا مرکز بن چکا ہے، جہاں امریکہ، روس اور چین کے مفادات براہ راست ٹکرا رہے ہیں۔