Latest News

ٹرمپ کا امریکی سپریم کوٹ کو کھلا چیلنج ، اب عالمی محصولات کو 10 سے بڑھا کر 15 فیصد کیا

ٹرمپ کا امریکی سپریم کوٹ کو کھلا چیلنج ، اب عالمی محصولات کو 10 سے بڑھا کر 15 فیصد کیا

انٹرنیشنل ڈیسک: امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ہفتہ کو دنیا بھر کے ممالک سے درآمد کی جانے والی اشیا پر لگائے گئے عالمی محصولات کو 10 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کرنے کا اعلان کیا۔ ٹرمپ نے یہ جانکاری اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر دی۔
انہوں نے لکھا کہ میں امریکہ کے صدر کی حیثیت سے ان ممالک پر 10 فیصد کے عالمی محصولات کو فوری طور پر بڑھا کر 15 فیصد کی سطح پر لے جا رہا ہوں جو دہائیوں سے امریکہ کو لوٹ رہے ہیں۔ یہ سطح مکمل طور پر قانونی طور پر جانچی اور پرکھی گئی ہے۔ انہوں نے یہ اعلان امریکہ کی سپریم کورٹ کی جانب سے ہنگامی محصولات کو غیر آئینی قرار دینے کے ٹھیک ایک دن بعد کیا۔ ٹرمپ نے عدالت کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے اسے مضحکہ خیز، خراب انداز میں لکھا گیا اور غیر معمولی طور پر امریکہ مخالف قرار دیا۔ انہوں نے لکھا کہ آئندہ چند مہینوں کے دوران امریکی انتظامیہ نئے اور قانونی طور پر قابل قبول محصولات کا تعین کرے گی اور انہیں جاری کرے گی۔

PunjabKesari
ٹرمپ نے کہا کہ کئی ممالک برسوں سے بغیر کسی سزا کے امریکہ کا فائدہ اٹھا رہے تھے اور یہ محصولات امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانے کے ان کے عمل کا حصہ ہیں۔ اس سے پہلے امریکہ کی سپریم کورٹ نے جمعہ کو اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ صدر ٹرمپ نے بین الاقوامی ہنگامی اقتصادی اختیارات کے قانون کا استعمال کرتے ہوئے محصولات لگا کر اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔ عدالت کے مطابق محصولات عائد کرنے کا اختیار بنیادی طور پر کانگریس یعنی امریکی پارلیمنٹ کے پاس ہے۔ عدالت کی نو رکنی بینچ نے یہ فیصلہ 6 کے مقابلے میں 3 کی اکثریت سے سنایا۔
فیصلہ آنے کے فورا ً بعد ٹرمپ نے دنیا بھر کے ممالک پر دس فیصد محصولات لگانے کا اعلان کر دیا تھا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ نے ایک نئے قانون کا سہارا لیا۔ اس کی دفعہ 122 کہتی ہے کہ صدر سنگین ادائیگیوں کے توازن کے خسارے کو درست کرنے کے لیے 15 فیصد تک درآمدی محصول لگا سکتے ہیں، لیکن یہ محصولات صرف 150 دنوں کے لیے مؤثر رہ سکتے ہیں۔ اسے آگے بڑھانے کے لیے کانگریس کی منظوری لازمی ہوگی۔
یہ پیش رفت صدر اور عدلیہ کے درمیان ایک بڑے آئینی ٹکرا ؤکے طور پر سامنے آ رہی ہے۔ اس سے پوری دنیا میں امریکی محصولات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ اس کا اثر نہ صرف امریکہ بلکہ ہندوستان سمیت تمام عالمی تجارتی شراکت داروں پر پڑ رہا ہے۔ اس سے پہلے محصولات کے بارے میں امریکی سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد ہندوستانی وزارت تجارت و صنعت نے ہفتہ کو محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ امریکی عدالت کے فیصلے کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے۔
وزارت نے ہفتہ کو بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے کل محصولات کے بارے میں امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کا نوٹس لیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس سلسلے میں پریس کانفرنس بھی کی ہے۔ امریکی انتظامیہ کی جانب سے کچھ اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے۔ ہم ان تمام پیش رفتوں کے اثرات کا مطالعہ کر رہے ہیں۔
کیا ہو سکتا ہے اثر
عالمی محصولات میں اضافے سے بین الاقوامی تجارت متاثر ہو سکتی ہے۔ کئی ممالک کے ساتھ امریکہ کے تجارتی تعلقات میں کشیدگی بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس سے درآمدات و برآمدات، منڈیوں اور عالمی معیشت پر وسیع اثرات پڑ سکتے ہیں۔ فی الحال اس فیصلے کے بعد عالمی سطح پر ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے۔



Comments


Scroll to Top