Latest News

طالبان میں گھریلو تشدد کو جائز قرار دینے پر جاوید اختر کی تنقید، کہا- بہت ہو گیا، مذہب کے نام پر ظلم برداشت نہیں

طالبان میں گھریلو تشدد کو جائز قرار دینے پر جاوید اختر کی تنقید، کہا- بہت ہو گیا، مذہب کے نام پر ظلم برداشت نہیں

ممبئی :  بالی وڈ کے مشہور اسکرپٹ رائٹر جاوید اختر اکثر اپنے بے باک انداز کی وجہ سے خبروں میں رہتے ہیں۔ وہ کسی بھی معاملے پر سوشل میڈیا پر کھل کر اپنی رائے دیتے ہیں۔ اب حال ہی میں انہوں نے طالبان کے ایک ایسے قانون پر ردعمل دیا ہے جس میں عورتوں کے ساتھ گھریلو تشدد کو جائز قرار دیا گیا ہے اورانہوں نے اس کی سخت مذمت کی ہے۔
کیا بولے جاوید اختر؟ 
جاوید اختر نے عورت کے ساتھ گھریلو تشدد کو درست قرار دینے والے قانون پر اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا' طالبان نے بیوی کو مارنے کو قانونی حیثیت دے دی ہے جب تک کوئی ہڈی نہ ٹوٹے۔ اگر کوئی بیوی شوہر کی اجازت کے بغیر اپنے میکے جاتی ہے تو اسے تین ماہ کی جیل ہوگی۔ میںہندوستان  کے مفتیوں اور ملاؤں سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ اس کی بغیر شرط مذمت کریں کیونکہ یہ سب مذہب کے نام پر کیا جا رہا ہے اور اب بہت ہو گیاہے' ۔
وائرل ہوا پوسٹ
جاوید اختر کا یہ پوسٹ سوشل میڈیا پر آتے ہی تیزی سے وائرل ہو گیا اور مداح بھی ان کی بات کی حمایت کرتے ہوئے اپنی رائے دے رہے ہیں۔
کیا ہے طالبان کا نیا قانون
دی انڈیپنڈنٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق طالبان کے نئے تعزیری قانون کے تحت شوہر کی جانب سے کیا گیا گھریلو تشدد اس وقت تک جائز ہے جب تک بیوی کی ہڈیاں نہ ٹوٹیں۔ اس معاملے میں سزا تب ہی نافذ ہوگی جب حملہ لاٹھی سے کیا گیا ہو۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کوئی خاتون اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر میکے جاتی ہے تو اسے جیل ہو جائے گی۔
 



Comments


Scroll to Top