Latest News

دوستی یا دھوکہ ! ہندوستان پر 500 فیصد ٹیرف لگا سکتے ہیں ٹرمپ، کیا پوتن سے پیار ملک کو پڑے گا مہنگا ؟

دوستی یا دھوکہ ! ہندوستان پر 500 فیصد ٹیرف لگا سکتے ہیں ٹرمپ، کیا پوتن سے پیار ملک کو پڑے گا مہنگا ؟

انٹر نیشنل ڈیسک :  امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے یوکرین کی جنگ کے دوران روس پر دباؤ بڑھانے کے لیے ایک بڑے معاشی ہتھیار کو منظوری دے دی ہے۔ ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے تصدیق کی ہے کہ ٹرمپ نے روس پر پابندیاں عائد کرنے کے قانون2025 (Sanctioning of Russia Act 2025) کو منظوری دے دی ہے۔ یہ روس سے تیل اور یورینیم خریدنے والے ممالک کے لیے معاشی تباہی ثابت ہو سکتا ہے۔ اس بل کے تحت روس سے تجارت کرنے والے ممالک پر پانچ سو فیصد تک بھاری درآمدی محصول عائد کیا جا سکتا ہے۔
  ہندوستان اور چین پر دبا ؤبڑھے گا
امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ ٹرمپ کے ساتھ ان کی ملاقات نہایت کامیاب رہی۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل صدر ٹرمپ کو  ہندوستان ، چین اور برازیل جیسے ممالک پر دباؤ  ڈالنے کی بے حد طاقت دے گا، تاکہ وہ پوتن کی جنگی مشین کو مالی مدد دینا بند کریں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ بل قانون بن جاتا ہے تو امریکہ میں فروخت ہونے والی ہندوستانی اور چینی مصنوعات کی قیمتیں بہت زیادہ بڑھ جائیں گی، جس سے تجارتی تعلقات میں بڑی کمی آ سکتی ہے۔

PunjabKesari
 اس بل کی اہم باتیں کیا ہیں 
پانچ سو فیصد ٹیکس کی مار
:  روس سے تیل یا یورینیم خریدنے والے ممالک کی اشیاء  پر امریکہ پانچ سو فیصد تک ٹیرف عائد کر سکے گا۔
ایک ہفتے میں ووٹنگ :  امریکی پارلیمان میں اگلے ہفتے اس پر ووٹنگ ہونے کا امکان ہے۔ 
روس کا گھیراؤ : اس کا بنیادی مقصد روس کی آمدنی کے ذرائع کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے تاکہ وہ یوکرین کی جنگ جاری نہ رکھ سکے۔
وزیراعظم مودی کے ساتھ تعلقات پرکیا بولے ٹرمپ ؟
حال ہی میں ٹرمپ نے ہندوستان کے بارے میں سخت اشارے دیے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم مودی ایک اچھے انسان ہیں، لیکن انہیں معلوم ہے کہ میں روس سے تیل خریدنے پر خوش نہیں ہوں۔ مجھے خوش رکھنا ضروری تھا اور اگر ضرورت پڑی تو ہم ہندوستان پر ٹیرف بہت تیزی سے بڑھا سکتے ہیں۔
 چاول اور زراعت پر بھی منڈلایاخطرہ  
تجارتی جنگ کی گرمی ہندوستانی زرعی شعبے تک بھی پہنچ گئی ہے۔ امریکی کسانوں کی شکایات کے بعد ٹرمپ نے ہندوستانی چاول پر بھی نئے ٹیکس لگانے کی دھمکی دی ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ ہندوستان اپنی منڈی امریکی زرعی مصنوعات کے لیے کھولے، جبکہ ہندوستان اپنے ڈیری اور کسان شعبے کے تحفظ کے لیے فی الحال تیار نہیں ہے۔



Comments


Scroll to Top