انٹرنیشنل ڈیسک: دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر رکھنے والے ملک وینزویلا پر امریکی کنٹرول کے بعد اب ہندوستان کے لیے ایک اچھی خبر سامنے آئی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے باضابطہ طور پر اشارہ دیا ہے کہ وہ ہندوستان کو وینزویلا سے خام تیل دوبارہ خریدنے کی اجازت دینے کے لیے تیار ہے۔ تاہم یہ تجارت مکمل طور پر امریکہ کی جانب سے طے کیے گئے سخت قواعد اور واشنگٹن کنٹرول فریم ورک کے تحت ہوگی۔
سخت قواعد کے تحت راستہ کھلے گا
امریکی وزیر توانائی کرسٹوفر رائٹ کے مطابق امریکہ وینزویلا کے تیل کو عالمی منڈی میں فروخت کرنے کی اجازت دے رہا ہے، لیکن اس کی مارکیٹنگ اور آمدنی پر واشنگٹن کا سخت کنٹرول رہے گا۔ تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم امریکہ کے زیر کنٹرول کھاتوں میں جمع کی جائے گی، تاکہ اس کا استعمال صرف وینزویلا کی عوامی فلاح کے لیے کیا جا سکے۔

ہندوستان کے لیے یہ کیوں ضروری ہے
امریکی پابندیوں سے پہلے ہندوستان وینزویلا کے سب سے بڑے خریداروں میں سے ایک تھا۔ ہندوستان کی جدید ریفائنریاں وینزویلا کے بھاری خام تیل کو پروسیس کرنے کے لیے خصوصی طور پر تیار کی گئی ہیں۔ اس تجارت کے دوبارہ شروع ہونے سے۔
توانائی میں تنوع: ہندوستان کو روس اور مشرق وسطی کے علاوہ ایک قابل اعتماد متبادل حاصل ہوگا۔
بڑھتی ہوئی طلب: ہندوستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی۔
ٹرمپ کا معاشی مواقع کا نظریہ
صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے نکولس مادورو کو اقتدار سے ہٹانے کے بعد ہونے والے نئے معاہدوں کو امریکہ اور وینزویلا دونوں کے لیے ایک بڑا معاشی موقع قرار دیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا منصوبہ اس وقت ذخیرہ میں موجود 30سے 50 ملین بیرل تیل کو فوری طور پر منڈی میں لانے کا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ہم وہ واپس لے رہے ہیں جو ہم سے چھین لیا گیا تھا۔