Latest News

چین : ڈیوٹی کے دوران نوجوان کی موت، 8 گھنٹے بعد بھی موبائل پر آتا رہا کام کا میسیج

چین : ڈیوٹی کے دوران نوجوان کی موت، 8 گھنٹے بعد بھی موبائل پر آتا رہا کام کا میسیج

انٹرنیشنل ڈیسک:   چین میں 32 سالہ ایک پروگرامر کی طویل عرصے تک مسلسل کام کرنے کے بعد اچانک موت ہو گئی ہے۔ ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق، اس نوجوان کا نام گا گوانگ ہوئی تھا۔ ان کے خاندان کا کہنا ہے کہ ان کی موت کی بنیادی وجہ حد سے زیادہ کام یعنی اوور ورک تھا۔ اس واقعے کے بعد چین کے سوشل میڈیا پر کام کے دباؤ اور ذاتی زندگی کے توازن کو لے کر بڑی بحث شروع ہو گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، سال 2021 میں ترقی ملنے کے بعد گاؤ کو ٹیم لیڈر بنایا گیا تھا۔ اس کے بعد ان کے لیے دیر رات تک کام کرنا اور اوور ٹائم کرنا معمول بن گیا تھا۔ ان کی اہلیہ لی کئی بار ان سے کہتی تھیں کہ وہ وقت پر گھر آیا کریں اور اپنی صحت کا خیال رکھیں۔ لی نے جذباتی انداز میں کہا کہ اگر میں وقت کو پیچھے لے جا سکتی تو میں انہیں نوکری چھوڑنے پر مجبور کر دیتی۔
واقعہ کیسے پیش آیا
یہ افسوسناک واقعہ 29 نومبر 2025 کا ہے۔ اس دن صبح گاؤ نے جاگتے ہی طبیعت خراب محسوس کی، لیکن اس کے باوجود انہوں نے گھر سے ہی کام جاری رکھا۔ کچھ دیر بعد ان کی حالت مزید بگڑ گئی اور وہ اچانک بے ہوش ہو گئے۔ گھر والے انہیں فوراً ہسپتال لے گئے، لیکن ڈاکٹروں نے دوپہر کے وقت انہیں مردہ قرار دے دیا۔ میڈیکل رپورٹ میں موت کی وجہ اچانک دل کا دورہ یعنی کارڈیک اریسٹ بتائی گئی ہے۔
موت کے بعد بھی آتا رہاکام کا  میسیج 
اس معاملے میں سب سے حیران کن بات یہ تھی کہ گاؤ کی موت کے آٹھ گھنٹے بعد بھی ان کے فون پر کام سے متعلق ایک میسیج آیا۔ اس پیغام میں ان سے فوری طور پر ایک ضروری معائنہ کرنے کو کہا گیا تھا۔ اس واقعے نے چین میں حد سے زیادہ کام کے دباؤ  والے ماحول پر شدید غصہ پیدا کر دیا ہے۔
چین میں اوور ورک کلچر پر بحث تیز
اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر لوگ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا نوکری انسان کی جان سے زیادہ اہم ہے۔ کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ کمپنیاں ملازمین سے غیر انسانی طریقے سے کام لیتی ہیں۔ حالانکہ چین کے لیبر قانون کے مطابق کسی ملازم سے دن میں آٹھ گھنٹے اور ہفتے میں چوالیس گھنٹے سے زیادہ کام نہیں لیا جانا چاہیے، لیکن عملی طور پر کئی کمپنیاں اس سے کہیں زیادہ کام کرواتی ہیں۔ یہ واقعہ چین کے 996 کلچر ( صبح نو بجے سے رات نو بجے تک، ہفتے میں چھ دن کام کرنے کے نظام )پر بھی سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے اور کام اور ذاتی زندگی کے توازن پر نئی بحث چھیڑتا ہے۔
 



Comments


Scroll to Top