Latest News

امریکی خفیہ رپورٹ میں دعویٰ : چین کی جوہری میزائلوں میں ایندھن کی جگہ بھرا گیا پانی ، جن پنگ نے فوجی افسر کو عہدے سے ہٹایا

امریکی خفیہ رپورٹ میں دعویٰ : چین کی جوہری میزائلوں میں ایندھن کی جگہ بھرا گیا پانی ، جن پنگ نے فوجی افسر کو عہدے سے ہٹایا

واشنگٹن: چینی فوج کی اسٹریٹجک صلاحیتوں کے بارے میں ایک چونکا دینے والا دعوی سامنے آیا ہے۔ امریکی خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین کی بعض جوہری میزائلوں میں ایندھن کے بجائے پانی بھرا ہوا تھا، جس کی وجہ سے وہ لانچ کی حالت میں ہونے کے باوجود پرواز کرنے کے قابل نہیں ہوتیں۔ یہ میزائل مغربی چین کے سنکیانگ صوبے میں واقع چینی راکٹ فورس کے ایک خفیہ فوجی اڈے پر تعینات تھیں۔ رپورٹس کے مطابق، اسی سنگین انکشاف کے بعد صدر شی جن پنگ نے چینی فوج میں بدعنوانی اور نااہلی کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے چینی راکٹ فورس کے سربراہ جنرل ژانگ یوکسیا کو عہدے سے ہٹا دیا۔ یہ قدم چین کی جوہری اور میزائل صلاحیتوں کی ساکھ پر اٹھنے والے سوالات کے درمیان انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔
کون تھے جنرل ژانگ یوکسیا
جنرل ژانگ یوکسیا کو صدر شی جن پنگ کا قریبی اور چین کے سب سے بااثر فوجی افسران میں شمار کیا جاتا تھا۔ وہ چین کے مرکزی فوجی کمیشن میں شی جن پنگ کے بعد دوسرے سب سے سینئر رکن تھے۔ یہ کمیشن چین کی پیپلز لبریشن آرمی (PLA) ، پیپلز آرمڈ پولیس اور ملیشیا کی اعلی قیادت کرتا ہے۔ چین کی فوجی حکمت عملی اور ہتھیاروں کی تیاری سے متعلق تمام بڑے فیصلے اسی فورم پر کیے جاتے ہیں۔
امریکی خفیہ رپورٹ میں کیا الزامات
امریکی خفیہ رپورٹس کے مطابق، جنرل ژانگ یوکسیا کو 19 جنوری کو حراست میں لیا گیا تھا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے چین کے جوہری ہتھیاروں سے متعلق حساس معلومات امریکہ کو لیک کیں، ترقی کے بدلے رشوت لی اور پی ایل اے کی جنگی تیاریوں سے سمجھوتہ کیا۔ چین کی فوج کے سرکاری ترجمان پی ایل اے ڈیلی میں شائع ہونے والے ایک مضمون کا حوالہ دیتے ہوئے ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ نے لکھا کہ بدعنوانی نے چین کی فوجی جنگی صلاحیت کو کمزور کیا ہے اور ایسے بڑے مجرموں کے خلاف سخت کارروائی ضروری ہے جو فوجی بجٹ اور ہتھیاروں کے نظام میں ہیرا پھیری کرتے ہیں۔
سنکیانگ میزائل اڈہ اور پانی والا دعویٰ
بلوم برگ کی 2024 کی ایک رپورٹ میں امریکی حکام کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ سنکیانگ کے علاقے میں واقع میزائل سائلوز پر ایسے ڈھکن لگائے گئے تھے جو میزائل لانچ کو مؤثر طریقے سے روک سکتے تھے۔ رپورٹ میں یہ بھی دعوی کیا گیا کہ کچھ میزائلوں میں ایندھن کے بجائے پانی بھرا ہوا تھا، جس کی وجہ سے وہ صرف ظاہری طور پر تعینات دکھائی دیتی تھیں۔
مختلف رپورٹس اور مختلف رائے 
تاہم، ان دعوؤں کے بارے میں تمام ماہرین متفق نہیں ہیں۔ سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز نے کہا ہے کہ اگرچہ کچھ میزائلوں میں عارضی طور پر پانی بھرا گیا ہو سکتا ہے، لیکن اس صورت حال کو مستقل نہیں مانا جا سکتا۔ رپورٹ کے مطابق، شی جن پنگ کی بدعنوانی مخالف مہم اس بات کی علامت ہے کہ وہ چین کی جوہری طاقت کو حقیقی طور پر مضبوط بنانے کے حوالے سے سنجیدہ ہیں۔ دوسری جانب، ایشیا ٹائمز نے بلوم برگ کی رپورٹ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ چین عام طور پر اپنی مائع ایندھن والی میزائلوں میں پہلے سے پروپیلنٹ نہیں بھرکر نہیںرکھتا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ میزائلوں میں پانی بھرنے کی کوئی منطقی وجہ نہیں بنتی، جب تک کہ یہ جان بوجھ کر کیا گیا عمل نہ ہو۔
شی جن پنگ کی فوجی صفائی مہم
تجزیہ کاروں کے مطابق، حالیہ برسوں میں چینی فوج کے کئی سینئر افسران کی برطرفی اس بات کا اشارہ ہے کہ شی جن پنگ فوجی ڈھانچے میں پھیلی بدعنوانی کو ختم کرنے اور پی ایل اے کی جنگی صلاحیت کو حقیقی طور پر مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ راکٹ فورس میں کی گئی کارروائی کو چین کی جوہری حکمت عملی کے حوالے سے اب تک کا سب سے بڑا جھٹکا قرار دیا جا رہا ہے۔ فی الحال، چین کی حکومت نے ان الزامات پر کوئی تفصیلی سرکاری بیان جاری نہیں کیا ہے، لیکن عالمی سطح پر اس معاملے نے چین کی فوجی شفافیت اور جوہری تیاریوں کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
 



Comments


Scroll to Top