انٹرنیشنل ڈیسک: ایران میں جاری احتجاج کے درمیان اقتدار کا لہجہ مزید جارحانہ ہو گیا ہے۔ ایرانی سلامتی کے سربراہ اور سابق پارلیمنٹ اسپیکر علی لاریجانی نے صاف لفظوں میں کہا ہے کہ ایران اس وقت کسی امن یا جنگ بندی کی حالت میں نہیں بلکہ براہ راست جنگ کی کیفیت میں ہے۔ لاریجانی نے کہا کہ یہ کوئی معمولی احتجاج نہیں ہے۔ ہم جنگ کے بیچ میں ہیں اور اس میں کسی قسم کی نرمی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
🇮🇷 IRANIAN SECURITY CHIEF LOSES IT: “WE ARE IN THE MIDDLE OF A WAR”
Ali Larijani just declared there’s no peace and no ceasefire - only war.
He called protesters a “quasi-terrorist” urban force and pointed the finger at Israel for fueling the uprising.
Tehran isn’t calming… pic.twitter.com/nYY3bWmpcA
— Mario Nawfal (@MarioNawfal) January 10, 2026
انہوں نے سڑکوں پر نکلنے والے مظاہرین کو نیم دہشت گرد شہری طاقت (quasi-terrorist urban force) قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ یہ تحریک خود نہیں بلکہ بیرونی طاقتوں کی سرپرستی میں چل رہی ہے۔ لاریجانی نے براہ راست اسرائیل پر اشتعال انگیزی اور بغاوت کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا۔ ایرانی قیادت کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں معاشی بحران، مہنگائی، بے روزگاری اور سماجی پابندیوں کے خلاف احتجاج تیز ہوتے جا رہے ہیں۔ حکومت پہلے ہی ان تحریکوں کو غیر ملکی سازش قرار دیتی رہی ہے، لیکن اب پہلی بار اسے کھلے طور پر جنگ جیسا خطرہ بتایا گیا ہے۔
لاریجانی کے بیان سے واضح اشارے ملتے ہیں کہ تہران حالات کو پرسکون کرنے کے بجائے ٹکرا ؤ کے لیے تیار ہو رہا ہے۔ سلامتی اداروں کو مزید سخت کارروائی کے اشارے دیے گئے ہیں، جس سے آنے والے دنوں میں کارروائی کے مزید تیز ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اقتدار کی جانب سے جنگ کا لفظ استعمال کرنا اس بات کی علامت ہے کہ ایرانی قیادت اب احتجاج کو سیاسی اختلاف نہیں بلکہ قومی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ سمجھ رہی ہے۔ اس سے ملک کے اندر حالات مزید دھماکہ خیز ہو سکتے ہیں۔