Latest News

ٹرمپ نے مادورو کی گرفتاری کے لیے مہینوں کی خفیہ تیاری ، کتوں اور بلیوں تک کی جاسوسی کرائی، صدارتی محل کی ڈمی ۔۔۔۔

ٹرمپ نے مادورو کی گرفتاری کے لیے مہینوں کی خفیہ تیاری ، کتوں اور بلیوں تک کی جاسوسی کرائی، صدارتی محل کی ڈمی ۔۔۔۔

انٹرنیشنل ڈیسک: وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کو لے کر امریکی فوجی آپریشن کی حیران کن تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ مادورو کو پکڑنے سے پہلے مہینوں تک ان کی ہر سرگرمی پر نظر رکھی گئی۔ خفیہ ایجنسیوں نے یہاں تک مطالعہ کیا کہ مادورو کہاں رہتے ہیں، کیا کھاتے ہیں، کیا پہنتے ہیں اور کیسے چلتے پھرتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کے پالتو کتوں اور بلیوں تک کی جاسوسی کرائی گئی۔ امریکی فوج نے صدارتی محل جیسی ایک ڈمی عمارت بنا کر آپریشن کی ریہرسل کی۔ ٹرمپ کے مطابق مادورو صدارتی محل کو “قلعہ” کی طرح استعمال کر رہے تھے اور ایک محفوظ کمرے تک پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن اس سے پہلے ہی امریکی کمانڈوز انہیں گرفتار کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ آپریشن کے دوران کاراکس میں بڑے پیمانے پر بلیک آوٹ کیا گیا اور 150 سے زیادہ طیارے مغربی نصف کرے سے لانچ کیے گئے۔
جوائنٹ چیف آف اسٹاف کے چیئرمین ڈین کین نے بتایا کہ یہ مشن مہینوں کی خفیہ منصوبہ بندی کا نتیجہ تھا۔ ہیلی کاپٹروں پر فائرنگ بھی ہوئی، جس کے جواب میں امریکی افواج نے “زبردست طاقت” کا استعمال کیا۔ مادورو اور ان کی بیوی سیلیا فلورس کو پہلے ایک امریکی جنگی جہاز پر لے جایا گیا اور پھر نیویارک لایا گیا۔ امریکی فرد جرم کے مطابق مادورو پر نارکو دہشت گردی، کوکین اسمگلنگ، مشین گن اور مہلک ہتھیار رکھنے کی سازش سمیت چار سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اس پورے واقعے کے چند گھنٹوں بعد فلوریڈا کے مار اے لاگو میں صدر ٹرمپ کو ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سی ای او ایلون مسک کے ساتھ ڈنر کرتے دیکھا گیا۔ مسک نے عوامی طور پر ٹرمپ کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ یہ دنیا کے لیے جیت ہے اور آمروں کے لیے واضح پیغام ہے۔

مسک کی کمپنی اسٹارلنک نے وینزویلا کے عوام کی حمایت میں محدود مدت کے لیے مفت انٹرنیٹ سروس دینے کا بھی اعلان کیا۔ اسی دوران امریکی حکام کی جانب سے جاری ویڈیو میں ہتھکڑی لگائے مادورو کو ڈی ای اے ایجنٹوں کے ساتھ چلتے ہوئے دیکھا گیا، جہاں وہ “ہیپی نیو ایئر” کہتے ہوئے نظر آئے۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ اقتدار کی تبدیلی تک وینزویلا کا انتظام سنبھالے گا، تاہم زمینی حالات کے بارے میں ابھی تصویر واضح نہیں ہے۔ اس کارروائی نے پوری دنیا میں بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا یہ قانون کی پاسداری ہے یا کسی خودمختار ملک میں کھلی مداخلت۔



Comments


Scroll to Top