انٹرنیشنل ڈیسک: ایران میں انٹرنیٹ اور ٹیلی فون سروس پر پابندی کے باوجود ہفتہ کو بھی احتجاجی مظاہرے جاری رہے اور ملک کا باقی دنیا سے رابطہ تقریباً منقطع ہو گیا ہے۔ پابندیوں کی وجہ سے وہاں ہونے والے مظاہروں کی درست معلومات حاصل کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ لیکن امریکہ میں قائم خبر رساں ایجنسی 'ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس 'کے مطابق ان مظاہروں میں اب تک کم از کم65 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور 2 ہزار 300 سے زیادہ لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ سپریم لیڈر رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکہ کی وارننگ کے باوجود مظاہرین کے خلاف سخت کارروائی جاری رکھنے کے اشارے دیے ہیں۔ امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ہفتہ کو ایکس پر لکھا کہ امریکہ ایران کے بہادر عوام کی حمایت کرتا ہے۔
This is Tehran. Let that sink in. You are watching a revolution unfold live while the world’s media stays dead silent. Legacy media has become nothing more than a propaganda machine, because what news could possibly be bigger than this? @FoxNews @CNN pic.twitter.com/1X5PlzQAhw
— ثنا ابراهیمی | Sana Ebrahimi (@__Injaneb96) January 8, 2026
وہیں امریکی وزارت خارجہ نے الگ سے وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کے ساتھ کھیل مت کھلئے، جب وہ کچھ کہتے ہیں تو کر کے دکھاتے ہیں۔ ایران کے سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والی ایک ویڈیو میں اعلی ترین رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی وارننگ کو نظرانداز کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے ہاتھ ایرانیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ اس فوٹیج میں خامنہ ای کے حامی امریکہ مردہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے نظر آئے۔ سرکاری میڈیا نے مظاہرین کو دہشت گرد قرار دیا۔ ایران میں حالیہ برسوں کی طرح مظاہرین کے خلاف پرتشدد کارروائی کیے جانے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ خامنہ ای 86 برس نے تہران میں اپنے احاطے میں حامیوں سے کہا کہ مظاہرین امریکی صدر کو خوش کرنے کے لیے اپنی زندگیاں برباد کر رہے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ مظاہرین کی مدد کے لیے آگے آئیں گے۔ اس کے بجائے انہیں اپنے ہی ملک کے حالات پر توجہ دینی چاہیے۔ ایران کی عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی ایجئی نے کہا کہ مظاہرین کو کسی قانونی نرمی کے بغیر فیصلہ کن اور زیادہ سے زیادہ سزا دی جائے گی۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران میں مظاہرین کو قتل کیا گیا تو امریکہ ایران پر حملہ کرے گا۔ وینزویلا پر امریکی کارروائی کے بعد ٹرمپ کی اس وارننگ کو کافی سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔ ٹرمپ نے جمعہ کو کہا کہ اگر امریکہ حملہ کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہو گا کہ فوجی زمین پر بھیجے جائیں گے بلکہ اس کا مطلب ہو گا کہ دشمن کو نہایت زوردار طریقے سے وہیں چوٹ لگائی جائے گی جہاں سب سے زیادہ اثر ہو۔ ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران کے رہنماؤں سے کہتا ہوں کہ گولیاں چلانا شروع مت کرنا کیونکہ اگر تم نے ایسا کیا تو ہم بھی تمہارے خلاف کریں گے۔
ایک ویڈیو میں شمالی تہران کے سعادت آباد علاقے میں احتجاجی مظاہرے ہوتے دکھائی دے رہے ہیں اور سڑکوں پر ہزاروں لوگ نظر آ رہے ہیں۔ اس دوران ایک شخص کو خامنہ ای مردہ باد کہتے ہوئے سنا گیا ہے۔ ایران کے جلا وطن شہزادہ رضا پہلوی نے جمعرات اور جمعہ کو احتجاجی مظاہروں کی اپیل کی تھی۔ اب انہوں نے لوگوں سے ہفتہ اور اتوار کو بھی سڑکوں پر نکلنے کو کہا ہے اور پرانے ایرانی پرچم لہرانے کی اپیل کی ہے جس پر شیر اور سورج بنا ہوتا تھا۔ ایران میں شاہ کے دور حکومت میں ان کا استعمال ہوتا تھا۔
کچھ مظاہروں میں لوگ شاہ کے حق میں نعرے بھی لگا رہے ہیں لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ وہ پہلوی کی حمایت کر رہے ہیں یا پھر1979 کی اسلامی انقلاب سے پہلے کے دور کی واپسی کی امید ظاہر کر رہے ہیں۔ احتجاجی مظاہرے 28 دسمبر کو اس وقت شروع ہوئے تھے جب ایران کی کرنسی ریال شدید طور پر نچلی سطح پر پہنچ گئی تھی اور ایک امریکی ڈالر کے مقابلے اس کی قیمت 14 لاکھ سے بھی زیادہ ہو گئی تھی۔ بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے ملک کی معیشت پہلے ہی دباؤ میں ہے جن میں سے کچھ پابندیاں اس کے جوہری پروگرام کی وجہ سے عائد کی گئی ہیں۔