واشنگٹن: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر گرین لینڈ کے بارے میں متنازع بیان دے کر بین الاقوامی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ وینزویلا میں ہونے والے امریکی فوجی آپریشن، جس میں نکولس مادورو کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا گیا، کے ایک دن بعد ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کے لیے گرین لینڈ قومی سلامتی کے لحاظ سے انتہائی ضروری ہے۔ ایئر فورس ون میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ آرکٹک خطے میں روس اور چین کی بڑھتی موجودگی امریکہ کے لیے خطرہ ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا، “گرین لینڈ اس وقت انتہائی اسٹریٹجک ہے۔ وہاں روسی اور چینی جہاز ہر طرف ہیں۔ ہمیں قومی سلامتی کے نقطہ نظر سے گرین لینڈ چاہیے اور ڈنمارک اسے سنبھال نہیں سکتا۔
ٹرمپ نے یہاں تک کہا کہ یورپی یونین بھی چاہتا ہے کہ امریکہ گرین لینڈ کا کنٹرول سنبھالے، حالانکہ اس دعوے کا کوئی سرکاری ثبوت سامنے نہیں آیا ہے۔ گرین لینڈ ڈنمارک کا ایک خودمختار علاقہ ہے اور ٹرمپ پہلے بھی اسے امریکہ میں شامل کرنے کی خواہش ظاہر کر چکے ہیں۔ امریکہ کا مو¿قف رہا ہے کہ گرین لینڈ کی آرکٹک پوزیشن اور نایاب معدنی وسائل اسے اسٹریٹجک طور پر انتہائی اہم بناتے ہیں۔
ڈنمارک اور گرین لینڈ کی سخت مخالفت
ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈریکسن نے ٹرمپ کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا، “امریکہ کی جانب سے گرین لینڈ پر قبضے کی بات کرنا بالکل بھی سمجھ میں نہیں آتا۔ امریکہ کو ڈنمارک سلطنت کے کسی بھی حصے پر قبضہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔” انہوں نے ٹرمپ سے دھمکی آمیز بیانات فوری طور پر بند کرنے کی اپیل کی اور کہا کہ گرین لینڈ اور وہاں کے لوگوں نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ وہ فروخت ہونے والے نہیں ہیں۔
گرین لینڈ کے وزیراعظم جینز فریڈریک نیلسن نے بھی کہا کہ ان کا ملک جمہوری ہے اور اس کا مستقبل سوشل میڈیا پوسٹس یا بیرونی دباو سے طے نہیں ہوگا۔ تناو اس وقت اور بڑھ گیا جب امریکی نائب صدر کے معاون کی بیوی نے سوشل میڈیا پر گرین لینڈ کو امریکی پرچم کے رنگ میں دکھاتے ہوئے “SOON” لکھا تصویر پوسٹ کی، جسے ڈنمارک اور گرین لینڈ نے توہین آمیز قرار دیا۔ اس پورے واقعے سے واضح ہے کہ وینزویلا کے بعد گرین لینڈ کے حوالے سے بھی ٹرمپ انتظامیہ کی جارحانہ پالیسی امریکہ اور اس کے پرانے نیٹو اتحادیوں کے درمیان نیا تناو کا مرکز بنتی جا رہی ہے۔