Latest News

ایران میں خواتین کا جرأت مندانہ احتجاج: خامنہ ای کی تصویر جلا کر سلگارہیں سگریٹ ، اقتدار کو براہ راست چیلنج ( ویڈیو)

ایران میں خواتین کا جرأت مندانہ احتجاج: خامنہ ای کی تصویر جلا کر سلگارہیں سگریٹ ، اقتدار کو براہ راست چیلنج ( ویڈیو)

انٹرنیشنل ڈیسک: ایران میں جاری مظاہروں نے اب ایک نیا، جرأت مندانہ اور علامتی روپ اختیار کر لیا ہے۔ حالیہ دنوں میں سامنے آنے والی ویڈیوز اور تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایرانی خواتین سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تصاویر جلا کر اسی آگ سے سگریٹ سلگا رہی ہیں۔ یہ رجحان سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے اور اسے حکومت کے خلاف کھلی بغاوت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ایران میں خامنہ ای کی تصویر جلانا ایک سنگین جرم سمجھا جاتا ہے۔ وہیں خواتین کا عوامی مقامات پر تمباکو نوشی کرنا بھی سماجی اور مذہبی قوانین کے تحت ممنوع ہے۔ ایسے میں یہ قدم دوہرے درجے پر اقتدار اور مذہبی نظام کو براہ راست چیلنج کرتا ہے۔

An Iranian girl is seen using a symbolic image of Ayatollah Khamenei to light a cigarette, a protest visual from Iran.

Young Iranian women are becoming the face of dissent, using symbolic acts and social media to oppose the Islamic regime. pic.twitter.com/g7UsfQHSw3

— Manni (@ThadhaniManish_) January 10, 2026


ماہرین کے مطابق یہ احتجاج ملک میں گہرے ہوتے معاشی بحران، بڑھتی مہنگائی، کمزور ہوتی کرنسی، بے روزگاری اور سرکاری جبر کے خلاف عوامی غصے کی علامت ہے۔ دسمبر 2025 کے آخر میں شروع ہونے والے یہ مظاہرے اب خامنہ ای حکومت کے لیے گزشتہ کئی برسوں کے سب سے بڑے  چیلنج بن چکے ہیں۔ انٹرنیٹ اور ٹیلی فون خدمات پر پابندی، سکیورٹی فورسز کی سختی اور فائرنگ کے باوجود لوگ سڑکوں پر نکل کر نعرے لگا رہے ہیں۔ خواتین کا یہ نیا علامتی احتجاج 2022 میں مہسا امینی کی موت کے بعد شروع ہونے والی 'عورت، زندگی، آزادی'  تحریک کا اگلا مرحلہ سمجھا جا رہا ہے۔ اس وقت خواتین نے حجاب جلا کر اور بال کاٹ کر احتجاج کیا تھا، جبکہ اب یہ احتجاج براہ راست اقتدار کے مرکز کو نشانہ بنا رہا ہے۔

These Iranian women are showing their faces, no burkas, no fear...inside Iran....calmly smoking while burning a photo of Khamenei.

That takes more courage than the entire Western left-wing feminist class combined.

These women aren’t posting slogans or trying to run over law… pic.twitter.com/dZItOJzwzw

— Flopping Aces (@FloppingAces) January 9, 2026

ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای نے مظاہرین کو غیر ملکی طاقتوں کا ایجنٹ قرار دیا ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے مظاہرین پر تشدد کیے جانے پر سخت وارننگ دی ہے۔ رپورٹس کے مطابق اب تک سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ہزاروں گرفتاریاں کی گئی ہیں۔ خامنہ ای کی تصویر جلا کر سگریٹ سلگانا اب محض احتجاج نہیں رہا بلکہ ذاتی آزادی، حجاب قانون اور پورے مذہبی نظام کے خلاف کھلے چیلنج کی علامت بن چکا ہے، جس نے عالمی سطح پر بھی توجہ حاصل کی ہے۔
 

 



Comments


Scroll to Top