انٹرنیشنل ڈیسک: ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے امریکہ کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای پر کسی بھی قسم کا حملہ ایرانی قوم کے خلاف آل آؤٹ وار یعنی مکمل جنگ کے اعلان کے مترادف سمجھا جائے گا۔ یہ وارننگ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کے بعد سامنے آئی ہے، جن میں انہوں نے ایران میں نئی قیادت کی ضرورت کا ذکر کیا تھا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں پیزشکیان نے کہا، ہمارے عظیم رہنما پر کوئی بھی حملہ پوری ایرانی قوم کے خلاف جنگ کے برابر ہوگا۔ ایرانی صدر نے ملک کی معاشی مشکلات کے لیے امریکہ کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ برسوں سے عائد غیر انسانی پابندیوں اور واشنگٹن کی معاندانہ پالیسیوں نے عام ایرانی شہریوں کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔ اس سے قبل ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے ٹرمپ کو مجرم قرار دیتے ہوئے ملک میں بدامنی اور جان و مال کے نقصان کے لیے امریکہ کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔
جواب میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کو دہائیوں پرانی قیادت سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے۔ پولیٹیکو کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے ایرانی قیادت پر جبر، تشدد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے اور کہا کہ موجودہ حکومت خوف کے سہارے اقتدار میں برقرار ہے۔ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی کے بعد سے ہی امریکہ اور ایران کے تعلقات مسلسل کشیدہ رہے ہیں۔' میکسمم پریشر' (زیادہ سے زیادہ ) پالیسی، پابندیوں اور سخت بیانات نے دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی کو مزید گہرا کر دیا ہے۔