کھٹمنڈو: نیپال کی سیاست میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ چین کے حامی اور ہندوستان مخالف کھٹمنڈو میٹروپولیٹن سٹی کے میئر بالیندر شاہ نے اتوار کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ نائب میئر کو لکھے گئے خط میں شاہ نے کہا کہ وہ نیپال کے آئین 2015، مقامی حکومت آپریشن ایکٹ 2017 اور میٹروپولیٹن سے متعلق موجودہ قوانین کے تحت رضاکارانہ طور پر استعفیٰ دے رہے ہیں۔ بالیندر شاہ نے 2022 کے بلدیاتی انتخابات میں ایک آزاد امیدوار کے طور پر کھٹمنڈو کے میئر کا انتخاب جیتا تھا۔ اپنے استعفے میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنی پوری مدت کے دوران میٹروپولیٹن اور اس کے باشندوں کے مفاد میں پوری ذمہ داری اور دیانت داری کے ساتھ کام کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آنے والے وقت میں میٹروپولیٹن کی قیادت اور ترقی کا سفر مزید مؤثر، شفاف اور نتائج پر مبنی ہوگا۔
حال ہی میں بالیندر شاہ قومی آزاد پارٹی میں شامل ہوئے ہیں۔ پارٹی نے انہیں پانچ مارچ کو ہونے والے عام انتخابات کے لیے وزیر اعظم کے عہدے کا امیدوار قرار دیا ہے۔ شاہ جھاپا 5 انتخابی حلقے سے انتخاب لڑنے جا رہے ہیں، جسے چار مرتبہ وزیر اعظم رہنے والے اور سی پی این یو ایم ایل کے صدر کے پی شرما اولی کا روایتی مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ شاہ نے دعوی کیا ہے کہ وہ اولی کو انہی کے انتخابی حلقے میں شکست دیں گے۔ بالیندر شاہ کو نیپال کی جین زیڈ نوجوان نسل کی مضبوط حمایت حاصل سمجھی جا رہی ہے۔ انہوں نے جین زیڈ تحریک کی کھل کر حمایت کی تھی اور نوجوانوں کے درمیان ان کی مقبولیت تیزی سے بڑھی ہے۔ اسی وجہ سے قومی آزاد پارٹی نے انہیں وزیر اعظم کے عہدے کے لیے چہرے کے طور پر آگے کیا ہے۔ یہ بھی سمجھا جا رہا ہے کہ شاہ کا استعفیٰ اور انتخابی میدان میں اترنا نیپال کی سیاست کو نئی سمت دے سکتا ہے۔