Latest News

امریکی میڈیا میں آزاد ی بمقابلہ اقتدار کا نیا تنازعہ، ٹرمپ انتظامیہ پر '' 60 منٹس ''کی ہٹائی گئی رپورٹ بالآخر نشر

امریکی میڈیا میں آزاد ی بمقابلہ اقتدار کا نیا تنازعہ، ٹرمپ انتظامیہ پر '' 60 منٹس ''کی ہٹائی گئی رپورٹ بالآخر نشر

واشنگٹن: امریکہ کے معروف ٹیلی ویژن پروگرام  '60منٹس ' میں اتوار کو صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے کیے گئے ملک بدری کے عمل پر وہ رپورٹ نشر کی گئی، جسے ایک ماہ قبل اچانک خبروں کی فہرست سے ہٹا دیا گیا تھا۔ اس فیصلے نے سیاسی دباؤ کے حوالے سے سی بی ایس نیوز کے اندر ایک اندرونی ٹکراؤ کو جنم دیا، جو عوامی سطح پر سامنے آ گیا ہے۔ 60 منٹس سی بی ایس نیوز پر ہی نشر کیا جاتا ہے۔ نامہ نگار شیرین الفونسی نے ایل سلواڈور کی بدنام زمانہ جیل میں بھیجے گئے ملک بدر افراد پر مبنی اپنی رپورٹ میں سی بی ایس نیوز کے چیف ایڈیٹر بیری وائس کے ساتھ ہونے والے تنازعے کا کوئی ذکر نہیں کیا۔
21 دسمبر کے ایپی سوڈ سے اس رپورٹ کے ہٹائے جانے پر الفونسی نے اپنے '60 منٹس 'کے ساتھیوں سے کہا تھا کہ یہ ادارتی نہیں بلکہ سیاسی فیصلہ ہے۔ وائس کا مؤقف تھا کہ رپورٹ میں انتظامیہ کا مؤقف مناسب طور پر پیش نہیں کیا گیا اور دیگر میڈیا اداروں کی سابقہ رپورٹنگ کو بھی ٹھیک طرح شامل نہیں کیا گیا۔
اتوار کو نشر کی گئی رپورٹ میں ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیداروں کے کیمرے پر دیے گئے انٹرویوز شامل نہیں تھے، لیکن امریکی صدر کی سرکاری رہائش اور دفتر وائٹ ہاؤس اور محکمہ داخلی سلامتی کے بیانات شامل کیے گئے، جو پہلے کے ورژن میں موجود نہیں تھے۔ الفونسی نے کہا کہ نومبر سے 60 منٹس نے انتظامیہ کے اعلی عہدیداروں کے انٹرویو لینے کی کئی کوششیں کیں، لیکن تمام درخواستیں مسترد کر دی گئیں۔ ان کے مطابق کیمرے پر آ کر بیان دینے سے انکار کرنا رپورٹ کو دبانے کی حکمت عملی تھی۔
 



Comments


Scroll to Top