انٹرنیشنل ڈیسک: خفیہ ایجنسیوں نے خبردار کیا ہے کہ بنگلہ دیش میں ہونے والے انتخابات سے پہلے بھارت میں غیر قانونی دراندازی کی کوششیں تیز ہو رہی ہیں اور اس کے لیے اب نیپال کی سرحد کو نیا راستہ بنایا جا رہا ہے۔ سال 2025 میں اس طرح کے کئی معاملات سامنے آئے ہیں جن میں بنگلہ دیشی شہریوں کو نیپال کے راستے بھارت میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہوئے سکیورٹی فورسز نے پکڑا ہے۔ حکام کے مطابق یہ ایک نیا رجحان ہے۔ بھارت بنگلہ دیش سرحد پر سخت نگرانی کے باعث اب اسمگلر یعنی ٹاو¿ٹس نیپال کے راستے کا سہارا لے رہے ہیں۔ یہ اسمگلر بنگلہ دیش میں موجود نیٹ ورک اور بھارت میں سرگرم اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔
شیخ حسینہ کے اقتدار سے ہٹنے کے بعد بنگلہ دیش میں پھیلی ہوئی تشدد کی لہر نے بھارتی ایجنسیوں کو ہائی الرٹ پر لا دیا ہے۔ اس دوران شمال مشرقی ریاستوں اور مغربی بنگال میں دراندازی کی کئی کوششیں ناکام بنائی گئیں۔ انہی ناکامیوں کے بعد اسمگلروں نے نیپال سرحد کو متبادل راستے کے طور پر منتخب کیا۔ خفیہ ایجنسیوں کے مطابق بہار کے مشرقی چمپارن ضلع کے رکسول علاقے سے ملحق نیپال سرحد کا سب سے زیادہ استعمال کیا جا رہا ہے۔ فی الحال تعداد کم ہے کیونکہ اسمگلر حالات کا جائزہ لے رہے ہیں لیکن حکام نے خبردار کیا ہے کہ راستہ کامیاب ہوتے ہی بڑے پیمانے پر دراندازی کی کوششیں ہو سکتی ہیں۔
اس کے علاوہ بہرائچ، گونڈا اور بلرام پور اضلاع کے راستے سے بھی غیر قانونی دراندازی کی کوششیں کی گئی ہیں۔ حالات کو دیکھتے ہوئے نیم فوجی فورس نے نیپال سرحد پر ایک ہزار سات سو اضافی جوان تعینات کیے ہیں اور نیپال سے متصل جنگلات میں گہری تلاشی مہم چلائی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی پیلی بھیت، بہرائچ، شراوستی، بلرام پور، سدھارتھ نگر اور مہاراج گنج میں مجموعی طور پر نو ہزار جوان تعینات کیے گئے ہیں۔ ایک انٹیلی جنس بیورو افسر نے کہا کہ نیپال سرحد سنگین تشویش کا باعث بن چکی ہے۔ ہمیں اطلاع ملی ہے کہ بڑی تعداد میں بنگلہ دیشی نیپال کے سرحدی علاقوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں اور مناسب موقع کا انتظار کر رہے ہیں۔
حکام کا دعویٰ ہے کہ دراندازی کا مقصد صرف غیر قانونی آبادکاری نہیں بلکہ آبادیاتی تبدیلی اور دہشت گرد ماڈیول تیار کرنا بھی ہے۔ خفیہ ایجنسیوں نے خبردار کیا ہے کہ آئی ایس آئی بنگلہ دیش میں دہشت گرد ڈھانچے کو دوبارہ فعال کر رہا ہے اور نیپال کی کھلی سرحد کا فائدہ اٹھا کر بہار، مغربی بنگال اور شمال مشرقی ریاستوں میں دہشت گردوں کو بھیجنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ آپریشن سندور کے بعد آئی ایس آئی نے اپنی حکمت عملی بدل لی ہے۔ لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد پر سخت سکیورٹی کے باعث اب نیپال سرحد کو کمزور کڑی سمجھ کر استعمال کیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق بنگلہ دیش میں بارہ فروری کو ہونے والے انتخابات اور اس سے قبل ممکنہ تشدد حالات کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی مغربی بنگال میں اس سال ہونے والے انتخابات کو مدنظر رکھتے ہوئے بھی سکیورٹی ایجنسیاں چوکس ہیں۔ خفیہ ایجنسیوں نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے چند ماہ بھارت کی اندرونی سلامتی کے لحاظ سے انتہائی چیلنجنگ ہوں گے۔