National News

پہلے گولی ماریں گے، پھر بات کریں گے- ڈنمارک کی امریکہ کو سیدھی دھمکی

پہلے گولی ماریں گے، پھر بات کریں گے- ڈنمارک کی امریکہ کو سیدھی دھمکی

انٹرنیشنل ڈیسک:امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے دنیا کے سب سے بڑے جزیرے گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کی کوششوں کے درمیان ڈنمارک نے بھی اب وارننگ دے دی ہے۔ڈنمارک کے وزارت دفاع نے ٹرمپ کی دھمکیوں کا جواب دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر کوئی غیر ملکی طاقت ڈنمارک کے علاقے پر حملہ کرنے کی کوشش کرتی ہے، تو ان کے فوجی پہلے گولی چلائیں گے اور بات چیت بعد میں کریں گے۔
کولڈ وار کے دور کا قانون ہوالاگو
ڈنمارک نے اپنے فوجیوں کو یہ ہدایت 1952 کے کولڈ وار کے دور کے ایک قاعدے کے تحت دی ہے۔یہ قاعدہ اصل میں 1940 میں نازی جرمنی کی جانب سے ڈنمارک پر کیے گئے حملے کے بعد بنایا گیا تھا، جب مواصلاتی نظام بالکل ٹھپ ہو گیا تھا۔اس قاعدے کے مطابق، فوجیوں کو اپنے کمانڈروں کے احکامات کا انتظار کیے بغیر فوری جوابی کارروائی کرنے کی اجازت ہے۔
ٹرمپ کی گرین لینڈ پر نظر
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ لگاتار گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ان کا دعویٰ ہے کہ روس اور چین کے جہازوں کی بڑھتی ہوئی موجودگی کی وجہ سے یہ آرکٹک علاقہ امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے بہت اہم ہے۔ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ صرف کوئی معاہدہ یا لیز نہیں چاہتے، بلکہ گرین لینڈ کی مکمل ملکیت چاہتے ہیں۔انہوں نے ضرورت پڑنے پر طاقت کے استعمال کی دھمکی بھی دی ہے۔اسی دوران ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن نے امریکہ کو سخت الفاظ میں وارننگ دی ہے کہ گرین لینڈ فروخت نہیں ہے۔
سفارتی کوششیں جاری
موجودہ تناو کو کم کرنے کے لیے ڈنمارک اور گرین لینڈ کے نمائندوں نے وائٹ ہاو¿س کے حکام سے رابطہ کیا ہے۔حالانکہ، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے یقین دہانی کرائی ہے کہ امریکہ گرین لینڈ کو وینیزویلا جیسے حالات میں نہیں لے گا، پھر بھی ڈنمارک اپنی سلامتی کے حوالے سے مکمل طور پر چوکس ہے۔
                
 



Comments


Scroll to Top