انٹرنیشنل ڈیسک: شمالی افغانستان میں مقامی باشندوں اور سونے کی کان کنی کرنے والی کمپنی کے منتظمین کے درمیان جھڑپ میں چار افراد ہلاک ہو گئے اور پانچ دیگر زخمی ہو گئے۔ حکام نے یہ جانکاری دی۔ وزارتِ داخلہ کے ترجمان عبدالمتین کانے نے بتایا کہ منگل کے روز صوبہ تخر کے ' چاہ آب' ضلع میں تشدد کے دوران تین مقامی باشندے اور کمپنی کا ایک ملازم مارا گیا۔ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ جھڑپ کس وجہ سے ہوئی یا کمپنی کا مالک کون ہے۔ کانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اس معاملے میں کمپنی کے ایک سکیورٹی ملازم اور ایک مقامی باشندے کو گرفتار کیا گیا ہے۔
🇦🇫 Major Attack on Chinese Mining Firm in Afghanistan!
Armed groups killed five Chinese nationals & abducted several others from Dayulong Zeren Mining Co. in Chah-Ab, Takhar
The company’s processing unit & equipment destroyed
Severe blow to #China’s mining push in #Afghanistan. pic.twitter.com/haye1taGtH
— NewsFreak 2.0 (@_peacekeeper2) January 7, 2026
انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے فوری طور پر نظم و نسق بحال کر دیا اور تخر کے نائب گورنر نے بھی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ضلع کا دورہ کیا۔ کمپنی کی سرگرمیاں معطل کر دی گئی ہیں۔ صوبائی ترجمان اکبر حقانی نے کہا کہ حکام نے بھی جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور معاملے کی تفتیش کی جا رہی ہے۔ افغانستان کی برسرِ اقتدار طالبان حکومت نے سن2023میں کہا تھا کہ اس نے 6.5 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری والے سات کان کنی کے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں، جو سن2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے سب سے بڑا معاہدہ ہے۔ افغانستان کوئلہ، تانبا، لوہے کی کان، جست، سونا اور چاندی جیسی دھاتوں کے علاوہ معدنیات سے بھی مالا مال ہے۔