لندن: برطانیہ نے آرکٹک خطے میں روس اور چین سے پیدا ہونے والے بڑھتے خطرات کے حوالے سے نیٹو کے اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ بات چیت شروع کر دی ہے۔ حکومت کے ایک سینئر وزیر نے کہا کہ ان مذاکرات کا مقصد آرکٹک میں سکیورٹی نظام کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ برطانیہ کی وزیرِ ٹرانسپورٹ ہائڈی الیگزینڈر نے اتوار کو بتایا کہ یہ بات چیت نیٹو کے معمول کے عمل کا حصہ ہے اور اسے حال ہی میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ کو اپنے کنٹرول میں لینے کی دھمکیوں سے جوڑ کر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
تاہم ٹرمپ نے جمعہ کو کہا تھا کہ امریکہ نیٹو کے اتحادی ڈنمارک کے نیم خود مختار علاقے گرین لینڈ کو حاصل کرنے کے لیے معاہدہ کرنا چاہتا ہے، تاکہ روس یا چین وہاں اپنا اثر و رسوخ نہ بڑھا سکیں۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا، ہم گرین لینڈ کے بارے میں کچھ کرنے جا رہے ہیں، چاہے انہیں یہ پسند ہو یا نہ ہو۔ تقریبا 57 ہزار آبادی والا گرین لینڈ ڈنمارک کے تحفظ میں ہے اور اس کی فوجی صلاحیت امریکہ کے مقابلے میں کافی محدود ہے۔ گرین لینڈ میں امریکہ کا ایک فوجی اڈہ بھی موجود ہے۔ ڈنمارک کی وزیرِ اعظم پہلے ہی خبردار کر چکی ہیں کہ گرین لینڈ پر کسی بھی قسم کا قبضہ نیٹو کی یکجہتی کے لیے خطرہ ہوگا۔
گرین لینڈ کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ کی مسلسل وارننگز کے بعد امریکہ اور ڈنمارک کے تعلقات میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ امریکہ میں ڈنمارک کے سفیر جیسپر مولر سورینسن نے گرین لینڈ میں نئے تعینات امریکی ایلچی جیف لینڈری کے اس بیان کا سخت جواب دیا، جس میں کہا گیا تھا کہ دوسری عالمی جنگ کے دوران امریکہ نے گرین لینڈ کی خود مختاری کا تحفظ کیا تھا۔ سورینسن نے کہا کہ ڈنمارک ہمیشہ امریکہ کے ساتھ کھڑا رہا ہے، خاص طور پر 11ستمبر دو ہزار ایک کے دہشت گرد حملوں کے بعد، اور گرین لینڈ کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق صرف وہاں کے عوام کو ہے۔
وزیر ہائڈی الیگزینڈر نے کہا کہ برطانیہ اس بات سے اتفاق کرتا ہے کہ آرکٹک خطے میں روس اور چین کے درمیان اسٹریٹجک مقابلہ مسلسل بڑھ رہا ہے اور یہ نیٹو کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے۔ برطانیہ کے سابق امریکی سفیر پیٹر مینڈلسن نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ ٹرمپ طاقت کے زور پر گرین لینڈ پر قبضہ کریں گے۔ انہوں نے کہا، ٹرمپ بے وقوف نہیں ہیں۔ آرکٹک کو چین اور روس سے محفوظ رکھنا ضروری ہے اور اگر اس کوشش کی قیادت کوئی کرے گا تو وہ امریکہ ہی ہوگا۔ آرکٹک خطہ اب توانائی کے وسائل، نئے بحری راستوں اور فوجی حکمتِ عملی کی وجہ سے عالمی سیاست کا ایک اہم مرکز بنتا جا رہا ہے، جہاں آنے والے وقت میں بڑی طاقتوں کے درمیان مقابلہ مزید تیز ہونے کا خدشہ ہے۔