انٹرنیشنل ڈیسک: وینزویلا کے تانا شاہ صدر نکولس مادورو اور ان کی بیوی سیلیا فلورس کی امریکی حراست پر چین نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے امریکہ سے دونوں کو فوری طور پر رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ چین نے اس کارروائی کو صدر کا “اغوا” قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی خودمختار ملک کے رہنما کو زبردستی اپنے ملک لے جانا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ چینی وزارت خارجہ نے اتوار کو جاری بیان میں کہا کہ وینزویلا کے بحران کا حل فوجی کارروائی نہیں بلکہ بات چیت اور سفارتی مذاکرات سے ہونا چاہیے۔ چین نے واضح کیا کہ وہ امریکہ کی اس کارروائی کی سخت مذمت کرتا ہے اور اسے ایک خطرناک مثال مانتا ہے۔
اسی دوران امریکہ کے اندر بھی مخالفت تیز ہو گئی ہے۔ نیویارک سٹی کے میئر ظہران ممدانی نے مادورو کی گرفتاری کو “ایکٹ آف وار” بتاتے ہوئے کہا کہ یہ قدم نہ صرف بین الاقوامی قانون بلکہ امریکی قانون کی بھی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کی کارروائی دنیا کو مزید غیر مستحکم بنا سکتی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ 2 جنوری کی رات امریکی خصوصی دستوں نے وینزویلا کے دارالحکومت کراکس میں فوجی حملہ کر کے صدر مادورو اور ان کی بیوی کو حراست میں لیا اور بعد میں انہیں نیویارک لایا گیا۔
فی الحال دونوں کو ڈیٹینشن سینٹر میں رکھا گیا ہے جہاں ان پر ہتھیاروں اور منشیات سے جڑے معاملات میں مقدمہ چلانے کی تیاری ہے۔ مادورو کی حراست کے بعد سامنے آئی تصاویر نے بھی تنازع کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ کچھ تصاویر میں وہ نیویارک کے اسٹیورٹ ایئر نیشنل گارڈ بیس پر نظر آئے جبکہ ایک تصویر میں آنکھوں پر کالی پٹی، ہتھکڑی اور ہیڈفون لگائے ہوئے دکھائی دیے جسے خود امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر شیئر کیا۔
امریکہ کی اس کارروائی کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ لاس اینجلس، نیویارک کے ٹائمز اسکوائر، وائٹ ہاوس اور لاس ویگاس سمیت کئی شہروں میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین نے “بمباری بند کرو”، “تیل کے لیے خون نہیں اور جنگ نہیں” جیسے نعرے لگائے اور مادورو کو واپس وینزویلا بھیجنے کا مطالبہ کیا۔ ادھر بھارت نے بھی 24 گھنٹے بعد ردعمل دیتے ہوئے وینزویلا کی صورتحال پرگہری تشویش ظاہر کی ہے اور تمام فریقوں سے بات چیت اور پرامن حل کی اپیل کی ہے۔ عالمی سطح پر یہ معاملہ تیزی سے بین الاقوامی بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔