انٹرنیشنل ڈیسک: امریکہ کی سپریم کورٹ میں جمعہ کو صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ ٹیرف ( درآمدی محصولات ) کی قانونی حیثیت پر ایک بڑا فیصلہ آ سکتا ہے۔ اگر عدالت آج اس معاملے میں اپنا فیصلہ سناتی ہے تو اس کا اثر صرف تجارتی پالیسی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ امریکہ کی معاشی صورتحال اور سرکاری خزانے پر بھی دور رس نتائج مرتب ہوں گے۔
اگرچہ یہ طے نہیں ہے کہ سپریم کورٹ آج ہی فیصلہ سنائے گی، لیکن جمعہ کو عدالت نے 'ڈسیژن ڈے ' (فیصلہ کا دن ) مقرر کیا ہے، یعنی اس دن کئی اہم مقدمات پر فیصلے سنائے جا سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں کہ ٹیرف سے متعلق یہ معاملہ بھی آج سامنے آ سکتا ہے۔
عدالت کے سامنے دو بڑے سوالات
اس معاملے میں سپریم کورٹ بنیادی طور پر دو اہم سوالات پر غور کرے گی۔
1. کیا ٹرمپ انتظامیہ انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ (International Emergency Economic Powers Act) کے تحت ہنگامی اختیارات استعمال کرتے ہوئے ٹیرف عائد کر سکتی ہے۔
2. اگر عدالت یہ مانتی ہے کہ یہ طریقہ درست نہیں تھا تو کیا ان درآمد کنندگان کو رقم واپس کرنی ہو گی جنہوں نے یہ محصولات پہلے ہی ادا کر دیے ہیں؟۔
تاہم عدالت کا فیصلہ ان دونوں کے درمیان کسی درمیانی راستے کی صورت میں بھی آ سکتا ہے۔ عدالت چاہے تو اس قانون کے تحت محدود اختیارات کو درست قرار دے سکتی ہے اور صرف جزوی رقم کی واپسی کا حکم دے سکتی ہے۔
وال اسٹریٹ کی نظریں فیصلے پر
یہ معاملہ وال اسٹریٹ اور بڑے سرمایہ کاروں کے لیے بے حد اہم ہے۔ سپریم کورٹ کو اس حساس مسئلے پر فیصلہ دینے کی مکمل آزادی حاصل ہے اور نتائج کئی طرح کے ہو سکتے ہیں۔ اگر عدالت وائٹ ہاؤس کے خلاف بھی فیصلہ دیتی ہے تو بھی ٹرمپ انتظامیہ کے پاس ٹیرف نافذ کرنے کے دیگر طریقے موجود ہیں جن کے لیے ہنگامی قانون کا سہارا لینا ضروری نہیں ہو گا۔
ٹریژری سیکریٹری نے کیا کہا
امریکہ کے ٹریژری سیکریٹری اسکاٹ بیسنٹ نے جمعرات کو کہا کہ انہیں عدالت سے ایک ملا جلا فیصلہ آنے کی امید ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مجموعی طور پر ہم تقریبا اسی سطح پر ٹیرف سے آمدنی حاصل کرتے رہیں گے۔ لیکن جو چیز غیر یقینی ہے اور جو امریکی عوام کے لیے بدقسمتی کی بات ہو گی وہ یہ ہے کہ اگر صدر ہار جاتے ہیں تو انہیں قومی سلامتی اور مذاکرات میں دباؤ بنانے کے لیے ٹیرف استعمال کرنے کی آزادی کم ہو جائے گی۔ ٹرمپ نے اس قانون کا استعمال جزوی طور پر امریکہ میں فینٹینائل جیسے خطرناک منشیات کی اسمگلنگ روکنے کے لیے بھی کیا تھا۔
اگر ٹرمپ ہار گئے تو کیا اثر ہوگا
انٹرایکٹو بروکرز کے سینئر ماہر معاشیات جوس ٹوریس کے مطابق اگر عدالت ٹیرف روک دیتی ہے تو اس کے کئی اثرات ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عدالت ٹیرف پر پابندی لگاتی ہے تو انتظامیہ کوئی نہ کوئی متبادل راستہ ضرور نکالے گی۔ ٹرمپ اپنے ایجنڈے کے حوالے سے نہایت جارحانہ ہیں چاہے تنازع کیوں نہ ہو۔
ٹوریس کے مطابق ٹیرف رکنے سے امریکہ میں اندرون ملک صنعت کاری کو نقصان ہوگا۔ سرکاری مالی حالت متاثر ہو گی اور شرح سود میں اضافہ ہو سکتا ہے لیکن دوسری جانب کمپنیوں کی آمدنی بڑھ سکتی ہے کیونکہ خام مال کی لاگت کم ہو گی اور تجارت زیادہ ہموار ہو جائے گی۔
فیصلے کے خلاف جانے کا امکان زیادہ؟
پیشینگوئی کی منڈی کی ویب سائٹ کالشی(Kalshi ) کے مطابق صرف 28 فیصد امکان ہے کہ سپریم کورٹ موجودہ شکل میں ٹیرف کے حق میں فیصلہ دے گی۔ ٹوریس کا کہنا ہے کہ ان کی کمپنی کے صارفین کی سوچ بھی اسی کے قریب ہے۔
حکومت کے پاس اب بھی راستے موجود
اسکاٹ بیسنٹ نے بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے پاس1962 کے تجارتی ایکٹ کے تحت کم از کم تین اور راستے موجود ہیں جن کے ذریعے زیادہ تر ٹیرف برقرار رکھے جا سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی تشویش ظاہر کی کہ اگر عدالت نے رقم کی واپسی کا حکم دیا تو اس سے حکومت پر بھاری مالی بوجھ پڑے گا اور بجٹ خسارہ کم کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔
ٹریژری کے اعداد و شمار کے مطابق
مالی سال 2025 میں ٹیرف سے تقریبا 195 ارب ڈالر کی آمدنی ہوئی۔
مالی سال 2026 میں اب تک 62 ارب ڈالر کا ریونیو حاصل ہوا ہے۔
مورگن اسٹینلی کی رائے
مورگن اسٹینلی کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں خاصی باریکی ہو سکتی ہے۔ تجزیہ کار اریانا سالواتور اور بریڈلی ٹیان کے مطابق عدالت ٹیرف کو مکمل طور پر ختم کرنے کا حکم دیے بغیر ان کے دائرہ کار کو محدود کر سکتی ہے یا مستقبل میں ان کے استعمال پر پابندی لگا سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مہنگائی اور عام لوگوں کی خریداری کی صلاحیت کے حوالے سے سیاسی دباؤ بڑھنے کے باعث حکومت آگے چل کر ٹیرف پالیسی میں نرمی اختیار کر سکتی ہے۔
اب تک ٹیرف کا اثر کیسا رہا؟
اب تک ٹیرف کا اثر کئی ماہرین کی توقعات سے مختلف رہا ہے۔
مہنگائی پر محدود اثر پڑا ہے۔
امریکہ کا تجارتی خسارہ تیزی سے کم ہوا ہے۔
اکتوبر میں امریکہ کا تجارتی خسارہ2009 کی عالمی مالیاتی بحران کے بعد سب سے نچلی سطح پر پہنچ گیا۔ اس وقت درآمدات میں تیز گراوٹ آئی تھی جیسی گراوٹ اب بھی دیکھی جا رہی ہے۔