نیشنل ڈیسک: مغربی بنگال کے مغربی بردھمان ضلع کے آسن سول (کلٹی علاقے ) میں منگل کی صبح ایک خوفناک حادثہ پیش آیا۔ بی سی سی ایل (بھارت کوکنگ کول لمیٹڈ )کی ایک کھلی کوئلے کی کان میں غیر قانونی کان کنی کے دوران اچانک زمین دھنس گئی۔ یہ حادثہ بڑیرا علاقے میں ہوا، جہاں کچھ مزدور غیر قانونی طریقے سے کوئلہ نکال رہے تھے۔ اسی دوران کان کے اندر بنی سرنگ اچانک بھر بھرا کر گر گئی اور کئی مزدور ملبے کے نیچے دب گئے۔
اب تک تین مزدوروں کی موت ہو چکی ہے۔ دو مزدور شدید طور پر زخمی ہیں، جن کا علاج آسن سول ضلع ہسپتال میں جاری ہے۔ انتظامیہ کو خدشہ ہے کہ کچھ اور لوگ اب بھی ملبے میں پھنسے ہو سکتے ہیں۔
ریٹ- ہول مائننگ بنی موت کی وجہ
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہاں مزدور ریٹ - ہول مائننگ کرتے ہیں، یعنی چوہے کی طرح بہت پتلی اور خطرناک سرنگ بنا کر زمین کے اندر اترتے ہیں۔ یہ طریقہ انتہائی جان لیوا ہوتا ہے، کیونکہ ذرا سی حرکت سے پوری سرنگ گر سکتی ہے۔ حادثے کے بعد علاقے میں لواحقین اور دیہاتیوں کی بڑی بھیڑ جمع ہو گئی ہے۔ لوگوں کا الزام ہے کہ کوئلہ مافیا کے لوگ لواحقین کو ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ حادثے کو دبایا جا سکے اور غیر قانونی کان کنی کا پردہ فاش نہ ہو۔
بی جے پی ایم ایل اے کا بڑا الزام
بی جے پی کے رکن اسمبلی اجے پودار نے اس واقعے کو لے کر بڑا حملہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غریب دیہاتی اپنی جان خطرے میں ڈال کر ریٹ ہول مائننگ کرتے ہیں۔ اس خطرناک دھندے میں کوئلہ سنڈیکیٹ، پولیس اور نظام کی ملی بھگت ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ لوگ مر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غریب مزدوروں کی جان کی اب کوئی قیمت نہیں رہی۔
روز نکلتا ہے غیر قانونی کوئلہ
مقامی لوگوں کے مطابق یہ کان پہلے بھی کئی بار دھنس چکی ہے اور یہاں پہلے بھی اموات ہو چکی ہیں۔ اس کے باوجود روزانہ تین سے چار ٹرک غیر قانونی کوئلہ یہاں سے نکال کر بھٹیوں میں بھیجا جاتا ہے۔